زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 268

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 268 جلد دوم اور یہ تعلیم یافتہ اور سمجھ دار ہیں۔مگر ہم جن ممالک میں تبلیغ کے لئے جاتے ہیں وہ ہمیں علمی لحاظ سے نہایت ادنیٰ اور حقیر سمجھتے ہیں۔ان حالات میں ہمارے لئے ایک ہی صورت ہو سکتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے عین وقت پر مجھے سمجھا دی کہ ہم ساری دنیا پر نظر دوڑائیں اور دیکھیں کہ کیا اس دنیا میں کوئی ایسا خطہ بھی ہے جہاں کے رہنے والوں کے دلوں میں صلى الله اسی طرح کی آگ لگی ہوئی ہو جیسی رسول کریم ﷺ کے وقت عربوں کے دلوں میں لگی ہوئی تھی کیا دنیا میں کوئی ایسے لوگ بھی ہیں جن کے دلوں میں عربوں کی طرح دبی ہوئی خواہشات موجود ہوں۔پھر اگر ہمیں کوئی حصہ ایسا معلوم ہو تو پیشتر اس کے کہ ہم متمدن دنیا کو فتح کریں ، پیشتر اس کے کہ ہم متمدن دنیا پر اپنی طاقتوں کو خرچ کر دیں ان قوموں کو اپنے ساتھ ملا کر معروف اور کثیر التعداد قوم کی شکل میں دنیا کے سامنے آجائیں۔تب دنیا صرف مذہبی لحاظ سے ہی نہیں بلکہ سیاسی لحاظ سے بھی ہمیں وقعت دینے لگ جائے گی۔اس وقت متمدن قو میں ہمیں دو نقطہ ہائے نگاہ سے ذلیل سمجھتی ہیں۔پہلا نقطہ نگاہ تو یہ ہے کہ ہم ان سے ادنیٰ ہیں علم میں اور ادنی ہیں مال میں۔اور دوسرا نقطہ نگاہ یہ ہے کہ ہم ان سے تعداد میں کم ہیں۔اگر ہم ایک ذہنیت کو بدل دیں تو دوسری ذہنیت بھی آسانی سے بدلی جاسکتی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ روحانی علوم کے لحاظ سے دنیا ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتی۔لیکن وہ روحانی علوم کو علوم قرار نہیں دیتی وہ صرف ظاہری علوم کو علوم سمجھتی ہے۔لیکن بہر حال اگر ہم تعداد کے لحاظ سے زیادہ ہو جائیں اور ہمارے افراد کی تعداد بھی چار پانچ کروڑ تک پہنچ جائے تو یقیناً دنیا ہمیں عظمت دینے لگ جائے گی۔چاہے علمی لحاظ سے وہ ہمیں پھر بھی عظمت نہ دے لیکن بہر حال دو کمزوریوں میں سے ایک کمزوری کو دور کر لینا بھی اچھی علامت ہے۔غرض اس دنیا کے پر وہ پر اس وقت کروڑوں آدمی ایسے موجود ہیں جن کے دلوں میں وہی جذبات موجزن ہیں جو رسول کریم ﷺ کی بعثت پر عربوں کے دلوں میں موجزن تھے اور اگر ہم ذرا بھی توجہ سے کام لیں تو ان تمام علاقوں کو اسلام کے لئے فتح کر سکتے ہیں۔