زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 21
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 21 جلد دوم ایک حد تک اس کمی کو پورا کر دیا ہے تا ہم ایک انگریز کورٹ شپ میں جن باریک اور فطری احساسات کا اظہار کر سکتا ہے ایک پنجابی انگریزی دان نہیں کر سکتا۔کیونکہ اسے ہر قسم کے خیالات کے اظہار کا موقع نہیں ملتا۔غرض ایک زبان کی باریکیاں اسی ملک میں سیکھی جاسکتی ہیں جہاں وہ بولی جاتی ہے۔لیکن عربی ممالک میں ایک نقص بھی ہے اور وہ یہ کہ لوگوں نے اس زبان کو مسخ کر دیا ہے۔ہمارے مبلغین کو چاہئے کہ اس نقص کی اصلاح کریں اور جب وہ ایسا کریں گے تو ان ممالک کا علمی طبقہ بھی سمجھے گا کہ یہ لوگ ہمارے ملک کی خدمت کر رہے اور ہماری زبان کی اصلاح کر رہے ہیں۔کہا بیر وغیرہ مقامات جہاں کے لوگ احمدی ہو چکے ہیں وہاں ہمارے مبلغ اپنی گفتگو میں ایسی زبان استعمال کریں جو قرآنی زبان ہے۔اس طرح وہاں کے لوگوں کی زبان کی بھی اصلاح ہوتی جائے گی اور اس طرح دوسرے لوگ بھی محسوس کریں گے کہ جو احمدی ہوتے ہیں ان کی زبان علمی اور قرآنی ہوتی جاتی ہے اور وہ یہ سمجھیں گے کہ احمدی ہمارے ملک کی اصلاح کر رہے ہیں۔جیسا کہ سید ولی اللہ شاہ صاحب نے ذکر کیا ہے مولوی جلال الدین صاحب احمدیہ کالج کے فارغ التحصیل طلباء میں سے پہلے ہیں جن کو تبلیغ کی وجہ سے جانی حملہ برداشت کرنا پڑا ہے۔یہ ایسی چیز ہے کہ انسان کا اپنی جان کو خطرہ میں ڈالنا دوسروں کی توجہ اور ہمدردی کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ بناوٹ سے یہ بات حاصل نہیں ہوتی۔اس لئے جان دینے والے وہی لوگ ہوتے ہیں جو اپنے مذہب کو سچا سمجھنے والے ہوں۔ورنہ مدعی بھی جان کو خطرہ میں دیکھ کر پھر جاتے ہیں۔محمد علی باب کے متعلق ہی آتا ہے کہ جب اسے گرفتار کر کے اس پر گولیاں چلائی گئیں تو وہ بھاگ نکلا اور ایک کمرہ میں جا چھپا۔پھر وہاں سے پکڑا گیا۔فرانس میں ایک مشہور مدعی گزرا ہے جس نے پوپ کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔پوپ نے اس کے مقابلہ کے لئے ایک لستان بھیجا جس نے زور دار تقریریں کیں اور کہا کہ میں الہام کا مدعی نہیں ہوں مگر