زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 20

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 20 جلد دوم ہوں تو الفاظ کی بجائے ہاتھوں سے کیوں نہ کر لیں۔ہاں اگر مضمون الفاظ پر غالب ہوتا ہے تو لیکچر صحیح معنوں میں لیکچر کہلا سکتا ہے۔جہاں تک میرا تجربہ ہے عربی کی جو نظمیں پڑھیں یا مضامین سنے ہیں ان میں تکلف ہوتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ چونکہ مضمون اچھی طرح ادا نہیں کر سکتے اس لئے شاندار الفاظ میں اس کمزوری کو چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔جب ہماری جماعت کے لوگ بیرونی ممالک میں جاتے ہیں خواہ انگریزی بولنے والے ممالک میں یا عربی بولنے والے میں تو انہیں چاہئے کہ اس نقص کو دور کریں۔لیکن ایک نقص عربوں کی زبان میں پیدا ہو گیا ہے جس کی وجہ سے ان کی گفتگو اعلیٰ درجہ کی زبان میں نہیں ہوتی۔جنہیں خدا تعالیٰ توفیق دے وہ نہ صرف خود اعلیٰ زبان سیکھیں بلکہ عربوں کو بھی سکھائیں۔قرآن کریم کی عربی اور ہے اور عربوں کی موجودہ زبان اور۔یہ بھی ضروری ہے کہ عربوں کی موجودہ زبان سیکھیں تا کہ انہیں آسانی سے دین سکھا سکیں۔لیکن قرآن کی زبان بھی سیکھنی چاہئے اور اسے رواج دینے کی کوشش کرنی چاہئے۔عربی ممالک میں رہنے والے مبلغ کو چونکہ عربی میں گفتگو کرنے کی مشق کا موقع ملتا ہے ہم یہاں عربی نہیں بول سکتے۔اور اگر بولیں تو ہر قسم کے خیالات کے اظہار کا موقع نہیں ملتا لیکن جو شخص عربی ممالک میں جاتا ہے اسے ہر قسم کے خیالات کے اظہار کا موقع ملتا ہے۔وہ دوستوں سے گفتگو کرتا ہے۔اسے دشمنوں سے واسطہ پڑتا ہے۔اسے بڑوں سے، چھوٹوں سے، اسے بیمار سے ، مصیبت زدہ سے، اسے حجام سے، اسے سقے سے غرض ہر قسم کے لوگوں سے گفتگو کرنی پڑتی ہے۔اور اس طرح ہر قسم کے خیالات کے اظہار کا موقع ملتا ہے۔اس لئے فطرت جن امور کو ظاہر کرتی ہے انہیں وہ آسانی کے ساتھ سیکھ سکتا ہے۔زبان کی یہ باریکیاں یہاں نہیں سیکھی جاسکتیں۔اگر ہم عربی کالج میں اس کے لئے کوشش کریں تو بھی کامیابی نہیں ہو سکتی۔انگریزی کا لجوں میں پڑھنے والے بھی اس طرح اپنے تمام خیالات کا اظہار نہیں کر سکتے جس طرح ایک انگریز کر سکتا ہے۔اگر چہ انگریزی کے ناولوں نے