زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 22
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 22 جلد دوم پوپ کا پیرو ہوں۔تم الہام کے مدعی ہو میرے ساتھ آگ میں سے گزرو معلوم ہو جائے گا کہ کون سچا ہے۔مگر مدعی نے انکار کر دیا۔اس کے ایک پیرو نے کہا میں آگ میں جاتا ہوں لیکن جب آگ جلائی گئی تو اس نے کوئی بہانہ بنا لیا اور آگ میں سے نہ گزرا۔تو بڑے بڑے مدعی بھی ایسے گزرے ہیں جنہوں نے بڑی مصیبتیں اٹھا ئیں مگر عین وقت پر پیچھے ہٹ گئے۔دراصل آخر وقت تک یا تو سچا تکالیف برداشت کر سکتا ہے یا وہ کی جسے یقین ہو کہ میں سچا ہوں۔اور یہ ایسا نظارہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی توجہ کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔باوجود ان جھوٹوں کی شمولیت کے جو اپنے آپ کو سچا سمجھتے ہیں کیونکہ جان دینے کا منظر دھو کا وفریب سے ایک حد تک خالی ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت کے بعض لوگوں کو تو فیق دی ہے کہ انہوں نے سچائی کی خاطر جانیں دیں۔جیسا کہ افغان ہیں۔ہندوستانیوں کو ابھی تک ایسا موقع نہیں ملا اور ایسا تو بالکل نہیں ملا کہ وہ جانتے ہوں کہ ان کی جان لی جائے گی اور پھر جان لی گئی ہو مگر ایسا بھی موقع نہیں ملا کہ بے جانے حملہ کر کے جان لی گئی ہو۔اس قسم کا پہلا موقع مدرسہ احمدیہ کے فارغ التحصیل لوگوں میں سے مولوی جلال الدین صاحب کو ملا۔مولوی نعمت اللہ خان صاحب نے افغانستان میں خدا کی راہ میں جان دی مگر وہ ہندوستانی نہ تھے۔ان کی قربانی کا فخر افغانستان والوں کو حاصل ہے۔غرض خدا کی راہ میں جان دینا ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ایک دفعہ رسول کریم ﷺ کی انگلی زخمی ہوئی تو آپ نے فرمایا اِن انتِ إِلَّا اصْبَعِ دَمِیتِ۔1 تو انگلی ہی ہے جو زخمی ہوئی ہے۔اس کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ باوجود یکہ آپ نبوت کے مقام پر تھے پھر بھی اللہ تعالیٰ کے لئے جان دینے کو حسرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔پھر جو لوگ خدا کی راہ میں شہید ہوتے ان کے لئے دعا کرتے۔اور قرآن مجید میں آتا ہے فَمِنْهُم مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَنْتَظِرُ 2 یعنی یا تو مومن جان دے کر اپنا فرض ادا کر دیتا ہے یا حسرت رکھتا ہے کہ کب یہ وقت آئے۔