زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 235
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 235 جلد دوم خیال رکھو، خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا فرد ہونے کی وجہ سے تمہیں کوئی امتیاز نہیں۔امتیاز خدمت کرنے میں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدمت کی اللہ تعالیٰ نے آپ پر فضل نازل فرمایا۔تم بھی اگر خدمت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر بھی اپنا فضل نازل کرے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں منه از بهر ما کرسی که ماموریم خدمت را یعنی میرے لئے کرسی مت رکھو کہ میں دنیا میں خدمت کیلئے پیدا کیا گیا ہوں۔اسی طرح تم بھی کرسیوں پر بیٹھنے کے متمنی نہ بنو بلکہ ہر مسکین اور غریب سے ملو۔اور اگر تمہیں کسی غریب آدمی کے پاؤں سے زمین پر بیٹھ کر کانٹا بھی نکالنا پڑے تو تم اسے اپنے لئے فخر خود تقویٰ حاصل کرو اور جماعت کے دوستوں سے مل کر ان کو فائدہ پہنچاؤ اور جو علم تم نے سیکھا ہے وہ ان کو بھی سکھاؤ۔مل کر میں نے اس لئے کہا ہے کہ انگریز بھی کہتے ہیں کہ ہم ہندوستانیوں کو پڑھاتے ہیں۔مجھے کئی دفعہ ان سے ملنے کا موقع ملا ہے جب وہ یہ کہتے ہیں تو میں ان سے کہتا ہوں کہ تم لوگ ہم میں مل کر نہیں پڑھاتے بلکہ اپنے آپ کو کوئی باہر کی چیز خیال کر کے ہماری تربیت کرتے ہو اس لئے اس کا ہم پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔پس میں تم کو مل کر تربیت کرنے کیلئے کہتا ہوں۔جماعت میں بعض کمزور دوست بھی ہوتے ہیں ان میں اسلام کی حقیقی روح کا پیدا کرنا بہت ہی ضروری کام ہے۔جماعت کو علوم دینیہ سے واقف کرنا ، عرفانِ الہی کی منازل سے آگاہ کرنا، خدمت خلق ، محبت الہی اور اسلام کی حکمتوں کا بیان کرنا بہت بڑا کام ہے۔اسی طرح جماعت میں ایثار اور قربانی کی روح پیدا کرنا بھی ایک ضروری کام ہے۔یہ ایسے کام ہیں جن سے تم لوگوں کی نظروں میں معزز ہو جاؤ گے۔جماعت میں کئی آدمی اخلاق کے لحاظ سے کمزور ہیں ان کو اخلاق کی درستی کی تعلیم دو۔اللہ تعالیٰ کے منشاء کے مطابق جو تحریک جماعت میں ہوتی ہے اس کو کامیاب بنانے کی کوشش کرو۔بعض لوگ رسوم و رواج میں مبتلا ہوتے ہیں ان کو ان رسوم سے چھڑانے کی کوشش کرو۔بے شک