زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 234

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 234 جلد دوم اللہ تعالیٰ کی نظروں میں بھی تم معزز ہو گے اور دنیا بھی تمہیں عزت کی نگاہ سے دیکھے گی۔کہتے ہیں ایک احمق اپنے باپ سے لڑ پڑا۔باپ نے اس کو زجر کیا۔بیٹے نے آگے سے کہا تم ایک غریب کے بیٹے ہو اور میں ایک نواب کا بیٹا ہوں حالانکہ اس کو وہ عزت اپنے باپ کی وجہ سے ہی ملی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جو رتبہ اللہ تعالیٰ نے بخشا ہے اگر ہم صرف اسی کو اپنی عزت سمجھ لیں تو یہ عزت ہماری مانگی ہوئی ہوگی۔حقیقی عزت تبھی ہو گی جب ہم اس میں اپنا کمال بھی ملا لیں۔اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مردوں کیلئے خالص چاندی کی انگوٹھی پہننا جائز نہیں لیکن اگر اس میں کوئی اور چیز ملالی جائے تو پھر اس کا پہنا جائز ہو جاتا ہے۔اس طرح باپ دادے کی عزت حقیقی عزت نہیں ہوتی جب تک کہ اس میں اپنا پیتل بھی شامل نہ کر لیا جائے۔اسی طرح خالص ریشم پہنا بھی جائز نہیں مگر وہ ریشمی کپڑا جس میں ایک تارسوت کا بھی ہو اس کا پہننا جائز ہو جاتا ہے۔تو باپ دادے کی عزت کو اپنی طرف منسوب کرنا حقیقی عزت نہیں جب تک اس میں انسان اپنا کمال بھی داخل نہ کرے۔اللہ تعالیٰ نے تمہارے گھر سے وہ آواز اٹھائی جس کے سننے کیلئے تیرہ سو سال سے مسلمانوں کے کان ترس رہے تھے اور وہ فرشتے نازل ہوئے جن کے نزول کیلئے جیلانی ، غزائی اور ابن العربی کے دل للچاتے رہے مگر ان پر نازل نہ ہوئے۔گو بے شک یہ بہت بڑی عزت ہے مگر اس کو اپنی طرف منسوب کرنا صرف ایک طفیلی چیز ہے۔دنیا کے بادشاہوں کی اولاد اپنے باپ دادوں کی عزتوں کو اپنی عزت کہتے ہیں حالانکہ دراصل وہ ان کیلئے عزت نہیں ہوتی بلکہ لعنت ہوتی ہے۔رسول کریم ﷺ سے کسی نے پوچھا کہ کون لوگ زیادہ اشرف ہیں؟ رسول کریم صلى ﷺ نے فرمایا جو تمہارے اندرا شرف ہیں بشرطیکہ ان میں تقوی ہو تو رسول کریم یا لی نے بھی پہلی قسم کی عزت کو تسلیم فرمایا ہے مگر حقیقی عزت وہی تسلیم فرمائی ہے جس میں ذاتی جو ہر بھی مل جائے۔پس تم اپنے اندر ذاتی جو ہر پیدا کر و۔جماعت احمدیہ کے ہر فرد کا