زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 236

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 236 جلد دوم اس کام کو سر انجام دینے میں بڑی مشکلات ہیں جیسے نئے بچھیرے پر زین باندھا جاتا ہے تو وہ بھاگتا ہے گو دتا ہے اس لئے کہ اس کو عادت نہیں ہوتی حالانکہ اس پر زین باندھنا اس کی خوبصورتی اور قیمت کو زیادہ کرنے کیلئے ہوتا ہے مگر چونکہ وہ اس کو سمجھتا نہیں اس لئے بھاگتا ہے۔لیکن جب وہ عادی ہو جاتا ہے تو وہی گھوڑا جو سودوسو کا ہوتا ہے بعد میں پچاس پچاس ہزار بلکہ لاکھ دو لاکھ تک اس کی قیمت پہنچ جاتی ہے۔ہماری جماعت کے جو لوگ رسم و رواج کے مرض میں گرفتار ہیں ان کو اس سے آزاد کرنا بالکل ایسا ہی ہے۔پس تم پر بڑی ذمہ داریاں ہیں جن کو پورا کرنے سے تم حقیقی عزت حاصل کر سکتے ہو۔مگر یہ عزت حاصل کرنا اس وجہ سے نہیں کہ تم میری اولاد ہو اور نہ اس وجہ سے کہ تم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کے افراد ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جسمانی تعلق کے علاوہ رسول کریم ﷺ جو آپ کے آقا ہیں ان سے بھی جسمانی تعلق کسی کی حقیقی عزت نہیں کہلا سکتا۔میں بچہ تھا کہ ہمارے گھر ایک عورت آئی اس نے پانی مانگا۔اس کو حضرت اماں جان ) نے پانی دیا۔اس نے کہا کہ تم جانتی نہیں میں سیدانی ہوں اور آل رسول ہوں مجھے تم امتیوں کے گلاس میں پانی پلاتی ہو۔میں نے جب اس کے منہ کی سے یہ بات سنی تو میرے دل میں اس کے متعلق عزت کا جذبہ پیدا نہیں ہوا بلکہ مجھے اس سے شدید نفرت پیدا ہوئی۔پس تم رسول کریم ﷺ کے ساتھ بھی جسمانی تعلق کی وجہ سے حقیقی عزت حاصل نہیں کر سکتے ہاں یہ طفیلی عزت ضروری ہے۔حقیقی عزت اُس وقت ہوتی ہے جب اس میں اپنا کمال بھی داخل کیا جائے۔پس تم حقیقی عزت حاصل کرنے کی کوشش کرو، جماعت کی خدمت کرو۔اگر تم اللہ تعالیٰ کے سلسلہ کی خدمت کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم دوہرے اجر کے مستحق ہو گے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے یہود کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اگر تم اس دین کو قبول کر لو تو تم کو دوہرا اجر ملے گا اور اگر کی اعراض کرو گے اور اس دین کو رد کر دو گے تو پھر عذاب بھی دو ہرا ہے۔پس تمہارا تعلیم کے بعد واپس آنا تم پر بہت بڑی ذمہ داریاں عائد کرتا ہے۔تم لوگوں کو احمدیت کی تعلیم سے