زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 213

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 213 جلد دوم کی کتابوں سے نبوت کا مسئلہ سیکھا ہے اور ہم انہی سے اس کا ثبوت پیش کریں گے۔بے شک یہ درست ہے کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں سے ہی آپ کی نبوت کا مسئلہ سیکھا ہے مگر ابھی وہ لوگ موجود ہیں جو جانتے ہیں کہ جب خواجہ کمال الدین صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت پر حملہ کیا تو ادھر ادھر چھپتے پھرتے تھے۔اُس وقت میں نے ہی اس مسئلہ پر بخشیں کیں اور حضرت خلیفہ المسیح الاول کو توجہ دلائی کہ اگر اس وقت ہم نے اس مسئلہ کی اہمیت نہ سمجھی تو بعد میں بہت مشکلات پیش آئیں گی۔اس پر آپ نے مجھے اجازت دی کہ تم بھی کہو جو کچھ کہنا چاہتے ہو۔اور 1910ء میں میں نے اس پر تقریر کی۔اُس وقت میں نے دیکھا کئی مخلص میرے پاس آئے اور انہوں نے آ کر کہا کہ اب کیا ہوگا۔اور جب میں ان کو بتاتا کہ آج اگر اس مسئلہ کو نہ اٹھایا گیا اور اس کی اہمیت ثابت نہ کی گئی تو پھر مشکل ہوگی تو وہ نئے نور ایمان سے بھر کر جاتے۔اُس وقت سوائے میرے اس مسئلہ پر کس نے قلم اٹھایا ؟ جب کام ہو جائے اُس وقت یہ کہنا کہ ہم نے یہ کیا وہ کیا کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔سوال تو یہ ہے کہ یہ کہنے والے اُس وقت کہاں تھے جب نبوت حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر حملہ ہوا تھا۔غرض جب ہم یہ بحث کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نبی ہیں تو اس کے یہی معنے ہوتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں نبی ہوں اور یہ آپ کی کتابوں میں موجود ہے۔مگر کتابوں میں سے نکال کر جس نے پیش کیا وہ سوائے میرے کون ہے؟ خدا تعالیٰ نے یہ کام جس سے کرانا تھا اسی سے کرایا۔کولمبس سے کسی نے کہا کہ امریکہ کا دریافت کر لینا بھی کوئی بڑی بات ہے۔ہم اگر ادھر چلے جاتے تو ہم دریافت کر لیتے۔اس پر اس نے ایک مجلس منعقد کی اور ایک انڈا نکال کر میز پر رکھ دیا اور سب سے کہا کہ کوئی اسے سیدھا کھڑا کر دے۔اس کے لئے سب نے زور لگا یا مگر کوئی کھڑا نہ کر سکا۔آخر کولمبس نے جیب میں سے سوئی نکالی اور اس سے انڈے میں سوراخ کیا اور جو لیس نکلی اس سے انڈے کو چپکا کر میز پر کھڑا کر دیا۔یہ دیکھ کر سب کہنے لگے کہ یہ تو ہم بھی کر سکتے