زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 214

زریں ہدایات (برائے مبلغین) 214 جلد دوم تھے۔کولمبس نے کہا اس کا تو تمہیں موقع مل گیا تھا پھر تم نے کیوں نہ کیا۔پس یہ کہنا کہ نبوت کا مسئلہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں میں ہے اور ہم انہی سے پیش کرتے ہیں اس کے متعلق سوال یہ ہے پہلے کیوں نہ پیش کیا گیا اور اُس وقت کیوں میرے قلم اور میرے منہ کی طرف دیکھتے رہے؟ چاہئے تھا کہ خود سامنے آتے۔شیخ صاحب اُس وقت کوئی چھوٹی عمر کے بچے نہ تھے۔مگر کیا وہ سامنے آئے؟ ہر گز نہیں۔یہ خدا کی دین ہوتی ہے وہ جس کو دے اسی کو ملتا ہے۔پھر اگر اس حدیث کو لیں تو اس کے متعلق بھی سیدھی بات ہے۔پیغامیوں کی طرف سے جب یہ حدیث پیش کی گئی تو میں نے جواب دیا کہ اگر یہ بات ہر نبی کے لئے ہوتی تو کس طرح درست ثابت ہو سکتی ہے۔الفضل میں میں نے اس کے متعلق مضمون لکھا ہوا ہے اور ہم اس کے یہ معنے کرتے ہیں کہ خاص قسم کے دو نبیوں کی آپس میں یہ نسبت اور تعلق ہے یعنی ہر دو نبیوں کے درمیان یہ بات آئے گی اس لئے اس میں کوئی حرج نہیں اور نہ اعتراض پڑ سکتا ہے۔اسی طرح اور کئی باتیں اس طالب علم نے لکھی ہیں کہ اس قسم کے خیالات شیخ مصری صاحب سنایا کرتے تھے۔ان کے علاوہ ممکن ہے بعض باتیں ایسی ہوں جو بچوں نے محسوس ہی نہ کی ہوں اور وہ خیالات ان کے دلوں میں رہ جائیں جو راسخ ہو جائیں اور بعد میں وہ سمجھیں کہ وہی سلسلہ کی تعلیم ہے اور انہیں پتہ بھی نہ ہو کہ یہ سلسلہ کی تعلیم نہیں بلکہ مصری صاحب کے خیالات ہیں اس لئے اس کے متعلق میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔یہ آزمائش خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے کہ کسی ادارہ کو کسی ایسے شخص کے ماتحت رکھا جائے جس کے خیالات اس جماعت کے خیالات کے خلاف ہوں جس نے وہ ادارہ قائم کیا ہو۔اس وقت دیانت داری یہی ہے کہ جب اختلاف پیدا ہو جائے تو اس ادارہ سے الگ ہو جائے۔ہم شیخ عبد الرحمن صاحب مصری سے اس لئے ناراض نہیں کہ وہ کیوں جماعت سے الگ ہو گئے بلکہ ہماری ناراضگی کی وجہ یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود انہوں