زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 212

زریں ہدایات (برائے مبلغین) 212 جلد دوم وقت ان کے نتائج نکلیں۔کیونکہ اثرات کی بعض صورتیں مخفی اور بعض پہلو پوشیدہ ہوتے ہیں۔نہ ان کا وسعت علم ہوتا ہے اور نہ ان کا ازالہ کرتے ہیں۔اس وجہ سے لوگوں کے قلوب پر قائم رہتے ہیں اور ایک عرصہ کے بعد ان کے نتائج رونما ہوتے ہیں۔کل ہی مدرسہ احمدیہ کے طلباء نے مجھے ایک خط لکھا جس میں بیان کیا ہے کہ ہم عرصہ سے محسوس کری رہے تھے کہ شیخ عبد الرحمن مصری میں تغیر آ رہا ہے۔اس کی انہوں نے مثالیں بھی دی ہیں اور وہ ان کی زیر کی ظاہر کرتی ہیں۔چنانچہ لکھا ہے شیخ صاحب سلسلہ کے بزرگوں کی کوئی نیک بات سننے کے لئے تیار نہیں ہوتے تھے۔مثلاً مہت پور میں مباحثہ ہوا اس کے متعلق جب ان سے کہا گیا کہ مولوی اللہ دتا صاحب بہت کامیاب ہوئے تو انہوں نے یہ بحث شروع کر دی کہ مباحثہ میں کامیابی نہیں ہوئی۔اسی طرح وہ اس بات پر بہت زور دیتے تھے کہ خلیفہ سے اختلاف رکھنا جائز ہے۔مگر یہ ان کی بات ایسی ہی تھی جیسے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے كَلِمَةُ حَقَّ أُرِيدَ بِهَا الْبَاطِلُ 1 طلباء کہاں کے مجتہد تھے کہ ان کے سامنے یہ بات پیش کی جاتی۔خود اپنی ذات میں اختلاف ایک وسیع المعانی لفظ ہے۔پھر اختلاف رکھنا بھی وسیع امر ہے۔اور طالب علم چھوڑ کئی عالم بھی بسا اوقات اسے نہیں سمجھ سکتے۔طالب علموں سے یہ بات کہنے کا مطلب سوائے اس کے کچھ نہیں ہو سکتا تھا کہ ان کی نظروں سے خلیفہ کی اہمیت گرائی جائے۔بچوں میں یہ بات نہیں ہوتی۔لیکن اگر وہ یہ کہتے کہ استاد سے بھی اختلاف جائز ہے، جہاں وہ بٹھائے وہاں نہیں بیٹھنا چاہئے بلکہ دوسری جگہ جا بیٹھنا چاہئے ، جو کچھ پڑھائے وہ نہیں پڑھنا چاہئے بلکہ جو جی چاہے وہ پڑھنا چاہئے تو ان کو پتہ لگ جاتا کہ استاد سے ہی اختلاف نہیں کرنا چاہئے بلکہ خلیفہ سے بھی نہیں کرنا چاہئے۔یا لکھا ہے وہ حدیث جس میں آیا ہے کہ ہر نبی دوسرے نبی سے نصف عمر پاتا ہے اس کے متعلق پوچھا کہ اس کا کیا مطلب ہے اور اسے غیر مبایعین کے مقابلہ میں کسی طرح پیش کیا جاتا ہے؟ تو جواب دیا کہ میرا یہ طریق ہے کہ جب پیغامیوں سے گفتگو کرتا ہوں تو خلیفتہ المسیح کی باتوں کو الگ رکھ دیتا ہوں۔کیونکہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام