زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 195 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 195

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 195 جلد دوم کا کلام اترتے اور اسے سچا ہوتے دیکھا تھا۔اس رؤیا کی بھی تعبیر تھی اور اس کا اصل مطلب در حقیقت کچھ اور تھا۔مگر وہ خدا تعالیٰ پر بڑا یقین رکھنے والا انسان تھا اور اس نے کہا کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے مجھے خواب میں ایک نظارہ دکھایا ہے میں اسی طرح کروں گا۔اور اگر خدا تعالیٰ کا منشاء کچھ اور ہے تو وہ آپ اس سے آگاہ کر دے گا۔مگر اس نے سمجھا کہ یہ میری قربانی نہیں بلکہ میرے بچے کی قربانی ہے اور میرے اکیلے کا حق نہیں کہ میں آپ ہی اس پر عمل شروع کر دوں۔بہتر ہے کہ میں اپنے بچے کے سامنے بھی اس کا ذکر کر دوں۔وہ بچہ پانچ چھ سال کی عمر کا تھا ، جب باپ چلتا تو وہ دوڑ کر اس کے ساتھ قدم ملا سکتا تھا، معمولی رفتار کے ساتھ قدم نہیں ملا سکتا تھا، اس باپ نے اپنے بچے کو بلایا اور کہا اے میرے بیٹے ! میں نے خواب دیکھا ہے اور وہ یہ کہ میں تجھ کو خدا تعالیٰ کیلئے ذبح کر رہا ہوں۔اب تو بتا تیری کیا صلاح ہے؟ اس بچہ نے آگے سے یہ نہیں کیا کہ زور سے چیخ مار کر اپنی ماں سے چمٹ گیا ہو اور اُس نے کہنا شروع کر دیا ہو کہ میرا باپ پاگل ہو گیا ہے۔اُس بچہ نے یہ نہیں کہا کہ ہاتھ جوڑ کر باپ کے آگے کھڑا ہو گیا ہو اور رونے لگ گیا ہو کہ ابا ! مجھے نہ مارو مجھے ڈر لگتا ہے۔وہ دہشت کے مارے بے ہوش نہیں ہو گیا۔اُس کے چہرے کا رنگ زائل نہیں ہوا بلکہ اُس نے یہ بات سن کر نہایت وقار اور نہایت متانت سے جواب دیا کہ يَابَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ 11 اے باپ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کو حکم دیا گیا ہے اُس کے کرنے میں دیر کیا ہے اور مجھ سے پوچھنے کا سوال کیا ہے میں حاضر ہوں آپ مجھے ذبح کر دیں ، آپ دیکھیں گے کہ میں کوئی گھبراہٹ ظاہر نہیں کروں گا اور آپ آرام سے میرے گلے پر چھری پھیر لیں گے۔باپ اُس کو جنگل میں لے گیا اور اُسے لٹا کر چاہا کہ اُس کے گلے پر چھری پھیر دے۔اُس زمانہ میں بچوں کی قربانی دینے کی عام رسم تھی اور کی ایک مقصد اللہ تعالیٰ کا یہ حکم دینے سے یہ بھی تھا کہ بچوں کی قربانی کی رسم کو مٹادیا جائے کیونکہ اُس زمانہ میں قوموں میں یہ رواج تھا کہ وہ کبھی کبھی خدا تعالیٰ کو خوش کرنے کیلئے اپنے بچوں میں سے کسی کو ذبح کر دیتے لیکن اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ اس رسم کو مٹائے۔پس اُس باپ نے