زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 194

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 194 جلد دوم میں سے کسی نے اسے قبول نہیں کیا اور اس کی غیرت نے برداشت نہ کیا کہ اللہ تعالیٰ کی آواز بغیر کسی جواب کے رہے۔وہ ایک چھوٹا بچہ تھا مگر اس نظارہ کو دیکھ کر وہ برداشت نہ کر سکا۔وہ کھڑا ہو گیا اور اُس نے کہا یا رسول اللہ ! میں اپنے آپ کو اس خدمت کیلئے پیش کرتا ہوں اور اس تعلیم کے پھیلانے میں میں آپ کی مدد کروں گا۔رسول کریم ﷺ نے اسے بچہ سمجھتے ہوئے اس کی بات کی طرف زیادہ توجہ نہ کی اور پھر انہیں ترغیب دی تا ان کی میں سے کوئی شخص مدد کیلئے اُٹھے۔آپ نے پھر ان مردہ دلوں میں زندگی کی روح پھونکنے کی کوشش کی۔پھر اسلام کے متعلق تقریر کی اور جب اپنی تقریر کو ختم کر چکے تو آپ نے پھر فرمایا کیا کوئی ہے جو خدا تعالیٰ کی آواز کو پھیلانے میں میری مدد کرے؟ پھر وہ تمام لوگ ساکت رہے اور پھر اس گیارہ سالہ بچہ نے دیکھا کہ مجلس میں کامل خاموشی ہے اور کوئی خدا تعالی کی آواز پر لبیک کہنے کیلئے تیار نہیں اس لئے پھر اس کی غیرت نے برداشت نہ کیا کہ خدا تعالیٰ کی آواز بغیر جواب کے رہے۔وہ گیارہ سالہ بچہ پھر کھڑا ہو گیا اور اس نے کہا يَا رَسُولَ اللَّهِ! میں ہوں۔آخر رسول کریم ﷺ نے جب دیکھا کہ وہی بچہ خدا تعالیٰ کی آواز کے جواب میں کھڑا ہوتا ہے تو آپ نے فرمایا۔یہ خدا تعالیٰ کی دین ہے وہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اس سے محروم رکھتا ہے 10 ممکن ہے تم میں سے وہ بچے جو ابھی گیارہ سال کی عمر کو نہیں پہنچے بلکہ اُن کی سات یا آٹھ سال عمر ہے وہ اس واقعہ کو سن کر کہیں کہ ابھی تو ہم اس عمر کو نہیں پہنچے جس عمر میں قربانی کرنا انسان کیلئے واجب ہوتا ہے اور شاید وہ قربانی کرنا ان لڑکوں کا حق سمجھیں جو بڑی عمر یا کم از کم گیارہ سال عمر رکھتے ہوں اس لئے میں ایک ایسے بچے کا بھی تمہیں واقعہ سناتا ہوں جو اُسی عمر کا تھا جس عمر کے تم میں سے اکثر بچے ہیں۔اس بچے کا باپ اپنی عمر کے نوے برس گزار چکا تھا کہ اس کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا۔جب وہ لڑکا پانچ چھ سال کی عمر کو پہنچا تو اس کے باپ نے رویا دیکھا کہ میں اپنے اکلوتے بیٹے کے گلے پر چھری پھیر رہا ہوں۔اس لڑکے کے باپ کو خدا تعالیٰ کی باتوں پر بڑا یقین تھا اور اس نے اکثر خدا تعالیٰ