زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 15

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 15 جلد دوم ہے تین نہیں۔اس لئے ان کی نظر دلائل تک ہی محدود رہتی ہے۔چونکہ روحانی امور پر بحث نہیں ہوتی اور کبھی یہ بحث نہیں ہوتی کہ روحانی ترقیات کس طرح حاصل ہو سکتی ہیں اس لئے ایک مناظر کا ذہن ادھر جاتا ہی نہیں۔اور جب وہ قرآن پڑھتا ہے تو اسی قسم کی باتوں کی طرف اس کا ذہن جاتا ہے جو بحث و مباحثہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ایسے لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی زندگی کو دو حصوں میں تقسیم کریں۔ایک مناظرانہ زندگی اور ایک انسانی زندگی۔قرآن کریم اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تلاوت مناظرانہ حیثیت سے نہیں بلکہ انسانی حیثیت سے بھی کرنی چاہئے اور اس وقت صرف روحانی حصہ کو مدنظر رکھنا چاہئے تب اس بہت بڑے خطرہ سے انسان بچ سکتے ہیں جو مناظرہ حیثیت سے کتب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور قرآن کریم کا مطالعہ کرنے کی وجہ سے درپیش ہوتا ہے۔ہر خوبی اور ہر کمال کے ساتھ خطرات ہوتے ہیں اور یہی وہ بات ہے جس کا ذکر رسول کریم میں نے اس طرح فرمایا ہے کہ ہر انسان کا گھر جنت میں بھی ہوتا ہے اور دوزخ میں بھی۔4 عام طور پر لوگ اس بات کو سمجھے نہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر قدم جو منزل کی طرف جاتا ہے ترقی کی طرف بھی جاتا ہے۔مثلاً جب کی انسان کوئی گناہ کرتا ہے اور اس کے دل میں احساس پیدا ہوتا ہے کہ میں نے برا کام کیا تو اس طرح اس کا گھر جنت میں بنتا ہے۔اور آخر جب وقت آ جاتا ہے تو اسے ایسی ٹھوکر لگتی ہے کہ اصل مقام پر پہنچ جاتا ہے۔اسی طرح جب کوئی اچھا کام کرتا ہے اور اس کے دل میں کبر پیدا ہوتا ہے تو اس کے لئے دوزخ میں گھر بنتا ہے اور آخرا سے ایسی ٹھوک لگتی ہے کہ دوزخ میں پہنچ جاتا ہے۔پس ہر انسان اپنے لئے دوزخ اور بہشت میں گھر بناتا ہے۔آگے یہ مومن کا کام ہے کہ جنت کے گھر کو قائم رکھے اور دوزخ کے گھر کو برباد کر دے۔اور اس کا طریق یہی ہے کہ اپنے اوقات کا کچھ حصہ اپنے نفس کو دے۔پس میں اپنے مبلغین کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ روحانیت کی طرف توجہ کریں۔کوئی لفاظی ، کوئی بحث و مباحثے ، کوئی مناظرے کام نہیں آسکتے۔یہ سب کچھ تھا مگر خدا تعالیٰ نے