زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 14

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 14 جلد دوم کتابیں پڑھتے ہیں تو ظاہری باتوں کی طرف ان کی نظر جاتی ہے اور ان میں جو روحانیت ہے اس تک پہنچنے کی کوشش نہیں کرتے اس لئے وہ روحانیت نہیں حاصل کر سکتے۔اور یہی خطر ناک چیز ہے۔اور اسی لئے صوفیا نے العلمُ حِجَابُ الأَكْبَرِ کہا ہے۔کیونکہ ایسا شخص ان باتوں پر غور نہیں کرتا جو اس کے اپنے نفس سے تعلق رکھتی ہیں بلکہ وہ صرف ان باتوں کو دیکھتا ہے جو دوسروں سے تعلق رکھتی ہیں۔ایک بہت بڑے قاضی حضرت عمر کے زمانہ میں گزرے ہیں۔حضرت عمر نے انہیں کوفہ کا گورنر بنا کر بھیجا۔کوفہ کے لوگ بار بار شکائیتیں کرتے تھے اور حضرت عمرؓ گورنر بدل دیتے تھے آخر فر مایا میں اب کے گورنر تو بدل دیتا ہوں مگر ایسا انسان بھیجوں گا جو انہیں سیدھا کر دے گا۔اُس وقت جنہیں گورنر بنا کر بھیجا گیا وہ بالکل نوجوان تھے۔کوفہ کے لوگوں کو جب یہ معلوم ہوا کہ ایک بچہ ہم پر گورنر بنا کر بھیجا گیا ہے تو انہوں نے کہا شہر سے باہر ہی چل کر خبر لینی چاہئے۔اور تجویز یہ ہوئی کہ بوڑھے بوڑھے لوگ جائیں اور جا کر سوال کریں کہ تمہاری عمر کیا ہے؟ چنانچہ کچھ لوگ گئے اور انہوں نے پوچھا کہ آپ کی عمر کیا ہے؟ حضرت عمرؓ نے بھی چونکہ چن کر آدمی بھیجا تھا انہوں نے کہا میری عمر اسامہ کو جب رسول کریم نے لشکر کا سردار بنا کر بھیجا تھا اور حضرت ابوبکر و حضرت عمرؓ کو ان کے ماتحت رکھا تھا ان سے دو سال زیادہ ہے۔یہ بات سن کر ان لوگوں پر ایسا اثر ہوا کہ انہوں نے آپس میں کہا اب ان سے کوئی بات نہ کرنا۔ان کا واقعہ لکھا ہے ایک شخص ان کے سامنے گواہی دینے آیا تو دیکھتے ہی پوچھا کیا آپ استاد ہیں؟ اس نے کہا ہاں۔لوگوں نے پوچھا آپ نے کس طرح سمجھا کہ یہ استاد تھا؟ انہوں نے کہا طالب علموں پر حکومت کرنے کی وجہ سے استاد کی ایسی طرز قائم ہو جاتی ہے کہ فوراً پہچان لیا جاتا ہے۔تو مناظرین کو چونکہ ہر وقت ایسے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے جن سے یہ گفتگو کرنی ہوتی ہے کہ حضرت عیسی فوت ہو گئے ، رسول کریم ﷺ کے بعد نبی آ سکتا ہے، خدا ایک