زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 16
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 16 جلد دوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا۔ظاہری علوم کے لحاظ سے اب بھی غیر احمدی علماء ہمارے علماء کے سامنے بچوں کی سی حیثیت رکھتے ہیں بلکہ ہماری جماعت کے بچوں کے سامنے بھی بچوں کی طرح ہیں۔مگر یہ محض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فیض ہے اسے مدنظر رکھو۔ورنہ یہ علوم کیا اور یہ قابلیتیں کیا۔اس سے ہزاروں درجے بڑھ کر بھی علم ہوں گے مگر روحانیت نہ ہو گی تو کامیابی حاصل نہ ہو سکے گی۔یہی دیکھو عالم کہلانے والے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر الزام لگاتے ہیں کہ آپ نے حضرت مسیح پر اعتراض کئے ہیں حالانکہ یہ اسلام کے بچانے کی ایک تجویز تھی۔پہلے لوگوں میں چونکہ روحانیت تھی اس لئے ان میں سے بھی بعض نے یہ طریق اختیار کیا۔لیکن اب جن لوگوں میں روحانیت نہیں وہ اس طریق کی وجہ سے جو اسلام کی حفاظت کے لئے اختیار کیا گیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اعتراض کرتے ہیں۔کہتے ہیں روم کے ایک عیسائی بادشاہ نے ایک مسلمان عالم کو بلایا اور تجویز یہ ہوئی کہ اسے شرمندہ کیا جائے۔پادری ان سے اس طرح گفتگو کرنے لگے کہ ہم آپ سے علم حاصل کرنا چاہتے ہیں کوئی اعتراض نہیں کرتے۔کہا جاتا ہے آپ کے رسول ایک دفعہ سفر پر گئے اور وہاں ایسا واقعہ پیش آگیا کہ ان کی بیوی پر الزام لگایا گیا۔یہ آپ کے رسول کے صحابی ہی کہتے ہیں ہم تو نہیں کہتے مگر آپ بتائیں کیا بات صحیح ہے؟ اس عالم نے کہا یہ تو کوئی ایسی مشکل بات نہیں جو آپ کی سمجھ میں نہ آ سکے بلکہ بالکل معمولی بات ہے۔اس قسم کے دو واقعات گزرے ہیں۔ایک عورت پہلے گزری ہے اس کا نام مریم تھا اس پر بھی الزام لگایا گیا اور ایک حضرت عائشہ ہیں جن پر الزام لگایا گیا۔الزام کے لحاظ سے تو دونوں مساوی ہیں۔لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ مریم بغیر شادی کے تھی کہ ان کے بچہ پیدا ہوا۔لیکن حضرت عائشہ خاوند والی تھیں مگر ساری عمر میں ان کے ہاں کوئی بچہ پیدا نہ ہوا۔یہ ان لوگوں میں احساس تھا جن میں روحانیت تھی کہ اسلام کی حفاظت کے لئے کیا ذرائع اختیار کرنے چاہئیں۔اب علم تو ہے لیکن روحانیت نہیں۔اسلام سے حقیقی محبت