زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 186
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 186 جلد دوم ہماری زندگی کا ثبوت نہیں، مولوی نعمت اللہ صاحب شہید ہماری زندگی کا ثبوت نہیں۔مولوی عبدالرحمن صاحب شہید ہماری زندگی کا ثبوت نہیں ، مولوی عبدالحلیم صاحب شہید ہماری زندگی کا ثبوت نہیں ، قاری نور علی صاحب شہید ہماری زندگی کا ثبوت نہیں ، اسی طرح ہندوستان کے وہ بہت سے لوگ جو مخالفین کے مختلف مصائب کے نتیجہ میں شہید ہوئے ہماری زندگی کا ثبوت نہیں ، مصر میں یا اور بعض علاقوں میں جو لوگ ہماری جماعت میں سے مارے گئے یا زخمی ہوئے وہ ہماری زندگی کا ثبوت نہیں۔ہماری زندگیوں کا ثبوت اُن کی وہ روح ہے جو ہمارے زندوں میں پائی جاتی ہو۔اگر افغان قوم میں وہ روح ہے جو صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید نے دکھائی تو افغان قوم زندہ ہے اور اگر افغان قوم میں وہ روح نہیں تو صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کی شہادت صاحبزادہ عبداللطیف کی زندگی کا ثبوت ہے مگر ہماری زندگی کا ثبوت نہیں ہو سکتی۔ہاں ! ہمارا اسی قسم کی قربانیوں کی خواہش کرنا، اس قسم کی قربانیوں کیلئے تلملانا اور اضطراب دکھانا ہماری زندگی کا ثبوت ہوسکتا ہے اور صحابہ کی زندگی کا ثبوت بھی یہی روح تھی۔پس اسلام اور مسلمانوں کی زندگی مِنْهُم مَّنْ قَضَى نَحْبَةُ کے مصداق وجودوں سے نہیں تھی بلکہ ان لوگوں کے وجود سے تھی جو وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَنْتَظِرُ کے مصداق تھے۔؟ اگر مرنے والے مر جائیں اور پیچھے منافق اور کمزور ایمان والے رہ جائیں تو یہ اُس قوم کی موت کی علامت ہو گی زندگی کی علامت نہیں ہوگی۔اگر ان بہادروں کا وجود ہی زندگی کی علامت ہوتا جو خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان پر کھیل گئے تو خدا تعالیٰ انہیں کیوں مرنے دیتا۔آخر کیا وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نبیوں کی حفاظت کا وعدہ کرتا ہے۔کیا اس لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان دینے سے ڈرتے ہیں؟ یا نبیوں کے خلفاء میں سے بعض کیوں ایسے ہوتے ہیں جنہیں طبعی موت دینے کا اللہ تعالیٰ وعدہ دیتا ہے۔کیا اس لئے کہ وہ بزدل ہوتے ہیں؟ نہیں بلکہ اس لئے کہ اُن کی زندگی میں قوم کی زندگی ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ صفحہ ھذا کی سطر 1 تا 6 میں لفظ ” ہیں" کی جگہ نہیں“ کا اندراج بمطابق الفضل 28 فروری 1961 ء کیا گیا ہے۔(مرتب)