زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 187
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 187 جلد دوم جانتا ہے کہ یہ ٹیکے ہیں جن کے لگنے سے قوم کے جسم سے بیماری دور ہوتی ہے۔اور اگر یہ لوگ مر گئے تو دنیا بھی مر جائے گی۔پس مرنے والے کسی قوم کی زندگی کا ثبوت نہیں ہوتے بلکہ وہ زندہ رہنے والی قوم کی زندگی کا ثبوت ہوا کرتے ہیں جو ہر وقت مرنے کیلئے تیار ہوں۔تحریک جدید کو جاری کرنے کی غرض بھی یہی ہے کہ تم میں زندگی پیدا ہو۔مرنے والے خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی جانیں دیں اور جو باقی رہیں وہ وَمِنْهُم مَّنْ يَنتَظِرُ کا مصداق - بنتے چلے جائیں۔جس دن ہم اس قسم کے زندہ لوگ پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے و ہی دن ہماری زندگی کا دن ہوگا ورنہ اگر مرنے والا مر گیا اور اُس نے انفرادی طور پر جان دے دی تو اس سے قوم کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔پس یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری تحریک جدید کے افسروں اور اس کے باقی کارکنوں پر ہے۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ابھی تک جماعت نے اس تحریک کی اہمیت کو نہیں سمجھا۔ممکن ہے ایک دو فیصدی سمجھے ہوں لیکن جماعت پر ایک عام نظر ڈالنے سے مجھے یہ نظر آتا ہے کہ اس تحریک کو 5 ، 6 فیصدی لوگوں سے زیادہ نے نہیں سمجھا حالانکہ چاہئے یہ تھا کہ سو فیصدی لوگ اسے سمجھنے والے موجود ہوتے۔بعض نے تو یہ سمجھا کہ مخالفت کی چونکہ اُس وقت ایک زبر دست رو اٹھی تھی اس لئے اُس کے مقابلہ کے لئے ایک عارضی سکیم جاری کی گئی تھی۔حالانکہ وہ تو خدا تعالیٰ نے اس تحریک کو کامیاب بنانے کے لئے ایک وقت پیدا کیا تھا۔ہر نئی چیز کو پیش کرنے کیلئے کوئی نہ کوئی بہانہ ہو ا کرتا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر مدینہ گئے تو اس لئے نہیں کہ کفار کو ان کے کئے کی سزا دیں مگر چونکہ خدا تعالیٰ نے ازل سے یہ مقدر کر رکھا تھا کہ آپ مدینہ جاتے اور پھر کفار سے لڑائیاں ہوتیں اس لئے آپ کو خدا تعالیٰ نے مدینہ جانے کا ارشاد فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی فرمایا تھا کہ ابھی کئی باتیں ایسی ہیں جو میں تم پر ظاہر نہیں کر سکتا مگر جب وقت آئے گا تو تم پر ظاہر ہو جائیں گی بالکل اسی طرح جس طرح حضرت مسیح نے کہا۔وہ وقت آیا مگر پھر بھی بہت سے نادانوں نے اسے نہیں سمجھا۔کئی پاگل اور مجنون ابھی تک ایسے ہیں جو قدرت ثانیہ