زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 181

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 181 جلد دوم ہے اسلام کے قیام کا اس زمانہ میں جو واحد ذریعہ ہے وہ اس تحریک میں آچکا ہے۔اس میں عارضی تحریکیں بھی ہیں اور مستقل تحریکیں بھی۔عارضی تحریکیں مختلف موقعوں پر تبدیل ہوتی چلی جائیں گی اور اس کے اصول بھی اس تحریک میں بیان ہو چکے ہیں۔مثلاً ممکن۔قادیان میں مکانات بنانے کی سکیم کا حصہ ہمیشہ کیلئے ویسا نہ رہے جیسے اس زمانہ میں ضروری ہے۔یا امانت فنڈ کی تحریک ویسی نہ رہے جیسی اس وقت ہے۔بالکل ممکن ہے آج سے دس پندرہ یا بیس سال کے بعد ان تحریکوں کی ضرورت بالکل جاتی رہے یا بہت حد تک کم ہو جائے۔یا ممکن ہے کسی وقت ان حصوں کو بالکل بند کرنا پڑے اور پھر کسی دوسرے وقت خطرہ ہونے کی صورت میں دوبارہ ان حصوں کو شروع کر دیا جائے۔ایسا ہو سکتا ہے لیکن بہر حال اس تحریک کے جو اصولی حصے ہیں وہ ہمیشہ قائم رہیں گے۔پس تم جو تحریک جدید کے بورڈنگ میں تعلیم حاصل کرنے والے طالب علم ہو یا د رکھو کہ تم تحریک جدید کے سپاہی ہو اور سپاہی پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔تمہارے نگرانوں کا فرض ہے کہ وہ تمہارے سامنے متواتر لیکچر دے کر تحریک جدید کی اغراض تمہیں سمجھائیں اور بتائیں کہ تحریک جدید کے بورڈنگ میں تمہارے داخل ہونے کے یہ معنی ہیں کہ تم تحریک جدید کے حامل ہوا اور تمہارا فرض ہے کہ تحریک جدید پر نہ صرف خود عمل کرد بلکہ دوسروں سے بھی کراؤ۔اس کی روح کو قائم رکھنا تمہارے فرائض میں داخل ہے۔اور چونکہ تم ابھی بچے ہو اس لئے تمہارے نگرانوں کا فرض ہے کہ تمہیں وہ تمام باتیں بتا ئیں اور مسلسل لیکچروں کے ذریعہ تمہارے ذہن نشین کریں۔مجھے یقینی طور پر معلوم ہے کہ سکول کے بعض افسر اس تحریک میں روک بنتے ہیں۔لیکن تم کو یہ امر ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ اگر تمہارا باپ بھی اس کے خلاف کوئی بات کہتا ہے یا تمہاری ماں بھی اس کے خلاف کوئی بات کہتی ہے تو جب تک تم احمدیت پر ایمان رکھتے ہو تمہیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اس شخص کی زبان پر شیطان بول رہا ہے کیونکہ تم نے بیعت خلیفہ کی کی ہے اپنے باپ یا اپنی ماں یا اپنے استاد کی نہیں کی۔اگر تم اس تحریک پر قائم نہیں رہ سکتے تو تمہیں سنجیدگی کے ساتھ اپنے ماں باپ کی