زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 180

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 180 جلد دوم کرتے انہی قربانیوں کی طرف تو میں اپنی جماعت کو لا رہا ہوں۔جو شخص کہتا ہے کہ میں تمہیں چھت پر چڑھا دوں گا اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ پہلے پہلی سیڑھی پر چڑھائے اور پھر دوسری اور پھر تیسری سیڑھی پر۔جو شخص ابھی پہلی سیڑھی پر ہے اسے چھت نظر نہیں آسکتا۔لیکن اگر وہ ان سیڑھیوں پر چڑھتا چلا جائے گا تو آخر ایک دن چھت پر پہنچ جائے گا۔جو کام اس کے وقت ہمارے سپرد کیا گیا ہے یہ کام ایک دن ہو کر رہے گا اور کسی کی طاقت نہیں کہ اس میں روک بن کر حائل ہو سکے۔اگر احمدیت سچی ہے اور یقیناً کچی ہے تو جو کچھ تحریک جدید میں مخفی ہے یا ظاہر وہ ایک دن دنیا پر رونما ہو کر رہے گا۔کئی باتیں تحریک جدید میں ابھی ایسی ہیں جو مخفی ہیں اور لوگ انہیں اس وقت پڑھ نہیں سکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ تحریک تفکر اور تدبر کے نتیجہ میں نہیں کی گئی بلکہ خدا تعالیٰ کے ایک مخفی الہام اور القائے ربانی کے طور پر یہ تحریک ہوئی ہے اور اس کے اندر ایسی ہی وسعت موجود ہے جیسے خدا تعالیٰ کے اور الہاموں میں وسعت موجود ہوتی ہے۔پس جوں جوں جماعت قربانیوں کے میدان میں اپنے قدم آگے بڑھاتی چلی جائے گی خواہ میری زندگی میں اور خواہ میرے بعد اس میں سے ایسی چیزیں نکلتی آئیں گی جو جماعت کیلئے اللہ تعالیٰ کے فضل سے نیا قدم ہوں گی۔اصول سب تحریک جدید کی سکیم میں بیان ہو چکے ہیں البتہ تفصیلات اپنے اپنے وقت پر طے ہو سکتی ہیں۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے یونیورسٹی ایک کورس مقرر کر دیتی ہے اور اس کا کام ختم ہو جاتا ہے۔آگے یہ طالبعلموں کا کام ہے کہ وہ جتنا جتنا کورس یاد کرتے جائیں اتنے اتنے امتحان میں وہ کامیاب ہوتے جائیں۔اسی طرح اب ایک مکمل کورس جماعت کیلئے تیار ہو چکا ہے، ایک کامل سیکیم تمہارے سامنے پیش کر دی گئی ہے، ایسا مکمل کورس اور ایسی کا مل سکیم کہ جَفَّ الْقَلَمُ عَلَى مَاهُوَ كَائِنَّ قلم نے جو کچھ لکھنا تھا وہ لکھ دیا اور اس کی سیاہی سوکھ چکی۔پس اب خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے جو راستہ مقرر کر دیا ہے اسے کوئی تبدیل نہیں کر سکتا کیونکہ اس کے سوا اب گمراہی کا راستہ تو ہے مگر ہدایت کا کوئی راستہ نہیں۔