زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 179

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 179 جلد دوم کر سکتا ہوں جو اس قسم کی قربانی کرنے کیلئے ہر وقت تیار ہیں۔اگر تجربہ کرنا ہو تو تین چار دفعہ ”الفضل“ اور ”انقلاب میں اشتہار دے کر دیکھ لو اور لکھ دو کہ ہمیں امریکہ ، انگلینڈ یا جرمنی اور فرانس میں تبلیغ اسلام کیلئے مبلغ درکار ہیں۔تمہیں چند ہی دنوں میں معلوم ہو جائے گا کہ اس کیلئے تمہارے پاس کتنی درخواستیں پہنچتی ہیں۔"1 مثل مشہور ہے کوئی پور بیا مر گیا اور اس کے بچوں کو سنبھالنے والا کوئی نہ رہا۔اس کی بیوی نے بین ڈالنے شروع کئے کہ ہائے میرا خاوند مر گیا۔اس نے فلاں سے ساٹھ روپے لینے تھے اب وہ کون لے گا؟ فلاں سے سو روپے لینے تھے وہ کون لے گا ؟ جب اس نے ئین ڈال کر اس طرح کہنا شروع کیا تو ایک پور بیا کو دکر آگے آ گیا۔اور جب اس نے کہا ہائے فلاں شخص سے میرے خاوند نے ساٹھ روپے لینے تھے وہ کون لے گا ؟ تو وہ کہنے لگا اری ہم ری ہم۔پھر وہ رونے لگی کہ فلاں سے سوروپیہ اس نے لینا تھا وہ کون لے گا ؟ وہ پھر کہنے لگا’ داری ہم ری ہم۔عورت پھر کہنے لگی فلاں زمین اس کی تھی اب اس پر قبضہ کون کرے گا ؟ وہ کہنے لگا ”اری ہم ری ہم۔پھر وہ عورت کہنے لگی اس نے فلاں کا دوسو روپیہ دینا تھا وہ کون دے گا؟ یہ سن کر پور بیا کہنے لگا کہ ارے بھئی ! میں ہی برادری میں سے بولتا جاؤں یا اور بھی کوئی بولے گا۔تو اس قسم کی قربانی کوئی چیز نہیں۔قربانی وہ پیش کرو جو حقیقی ہو۔تحریک جدید کا مقصد ہی یہ ہے کہ تمہارے اندر قربانی کی روح پیدا کی جائے اور اعلیٰ قربانیوں کیلئے تمہیں تیار کیا جائے۔لیکن چونکہ اعلیٰ قربانیوں کا یکدم مطالبہ نہیں کیا جاسکتا اس لئے آہستہ آہستہ قربانیوں کا معیار بڑھایا جا رہا ہے تا کہ تمام جماعت ایک سطح پر آ جائے۔عقلمند انسان ہمیشہ ربانی ہوتا ہے۔اس لئے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ب كُونُوا رَبينَ 7 ربانی کے معنی ایسے شخص کے ہی ہیں جو پہلے چھوٹے سبق پڑھاتا ہے اور پھر بڑے۔بعض نادان اور منافق کہا کرتے ہیں کہ جن قربانیوں کا تم دعوی کی کرتے ہو ان قربانیوں کو تم کر کے کیوں نہیں دکھاتے ؟ ان نادانوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ جن قربانیوں کی جماعت کو ضرورت ہے اور جن کے بغیر الہی سلسلے دنیا میں ترقی نہیں کیا