زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 178

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 178 جلد دوم ہیضہ اور طاعون کے کچھ کیڑے محفوظ رکھ لئے جائیں۔پس تحریک جدید کے طلباء کو یہ امر ہمیشہ اپنے مدنظر رکھنا چاہئے کہ ان کا مقصد مغربیت کی روح کو کچلتا ہے۔بے شک بعض طالب علموں کے ماں باپ کے ذہن میں یہ بات موجود ہے کہ وہ اپنے بچوں کو خدمت دین کیلئے وقف کر دیں گے لیکن اصل قربانی یہ ہے کہ انسان ان ممالک میں تبلیغ کیلئے جائے جن ممالک میں جانا ہر قسم کے خطرات اپنے ساتھ رکھتا ہے۔لیکن چونکہ جانا اپنے اختیار میں نہیں ہوتا بلکہ امام جہاں بھیجے وہاں جانا ضروری ہوتا ہے اس لئے دل میں ارادہ یہ رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کیلئے ہم ہر قسم کے خطرات قبول کرنے کیلئے تیار رہیں گے۔خصوصیت سے جب کوئی مبلغ مغرب میں جائے تو اس کو ہمیشہ یہ امر اپنے مد نظر رکھنا چاہئے کہ مغربیت کو کچلنا اس کے فرائض میں داخل ہے۔اگر وہ اس فرض کو ادا نہیں کرتا تو وہ اسلام سے تمسخر کرتا اور ہم کو بیوقوف بنانا چاہتا ہے لیکن ہم بیوقوف نہیں ہیں۔بچپن میں ایک ہمارے استاد ہوا کرتے تھے۔انہوں نے جس روز دیکھنا کہ ہم گھر سے مٹھائی لے کر نکلے ہیں تو دور سے ہی ہمیں دیکھ کر کہنا شروع کر دینا کہ میں مٹھائی نہیں کھایا کرتا۔بچپن کی عمر تھی جب ہم ان کے منہ سے یہ الفاظ سنتے تو اچھل کر استاد صاحب سے چمٹ جاتے اور کہتے کہ ہم تو آپ کو مٹھائی کھلا کر ہی رہیں گے۔جب ہم زیادہ اصرار کرتے تو انہوں نے اور زیادہ زور سے کہنا شروع کر دینا کہ نہ نہ میں نہیں کھاتا اور اپنے منہ کو خوب زور سے بھینچ لیتے اور کہتے خبر دار! جو میرے منہ میں مٹھائی ڈالی۔ہم اس پر اور زیادہ زور سے مٹھائی ان کے منہ میں ڈال دیتے۔انہوں نے تھوڑی سی مٹھائی کھا کر پھر منہ بھینچ لینا اور کہنا میں مٹھائی نہیں کھایا کرتا اور ہم نے پھر ان کے منہ میں مٹھائی ڈالنی شروع کر دینی۔یہاں تک کہ وہ اس طریق سے ہماری ساری مٹھائی کھا جاتے اور بچپن کی عمر کے لحاظ سے ہم سمجھتے کہ ہم نے بڑا کا رنامہ کیا ہے۔تو مغرب میں جانے والا مبلغ اگر مغربی روح کا مقابلہ نہیں کرتا تو اس سے زیادہ اس کی قربانی کی کوئی حقیقت نہیں جتنی قربانی مٹھائی کھاتے وقت ہمارا وہ استاد کیا کرتا تھا۔میں نے جیسا کہ ابھی کہا ہے میں غیر احمدیوں میں سے ایک ہزار آدمی ایسے پیش