زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 177
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 177 جلد دوم سکتی ہے۔تو بعض لڑکے جنہیں ان کے ماں باپ نے اس نیت اور اس ارادہ سے اس جگہ داخل کیا تھا کہ وہ اپنے اندر قربانی کی روح پیدا کریں وہ اس روح سے چل نہیں سکے۔اور بعض ماں باپ بھی اس روح سے کام نہیں لے سکے جس روح سے کام لینا ان کیلئے ضروری تھا۔مگر یہ کوئی عجیب بات نہیں۔ہرنئی چیز سے دو نظارے پیدا ہوا کرتے ہیں۔بعض لوگ پہلے اس میں شامل ہو جاتے ہیں اور پھر نکل جاتے ہیں۔اور بعض پہلے چیختے ہیں لیکن پھر خوشی سے شامل ہو جاتے ہیں۔یہ دونوں ناقص روح رکھنے والے لوگ ہوتے ہیں۔کامل روح والے وہ ہوتے ہیں جو شروع سے ہی خوشی سے شامل ہو جاتے ہیں اور بالکل ناقص وہ ہوتے ہیں جو کبھی حصہ نہیں لیتے۔پس کچھ لوگ جہاں ایسے ہوتے ہیں جو شروع میں ہی ساتھ شامل ہو جاتے اور چلتے چلے جاتے ہیں وہاں بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو پہلے شامل ہو جاتے اور پھر آہستہ آہستہ نکلنا شروع کر دیتے ہیں اور اسی قسم کا مظاہرہ بعض والدین اور بعض طالب علموں نے کیا ہے۔پس میں تحریک جدید کے طلباء کو بھی اس طرف توجہ دلاتا ہوں اور انہیں نصیحت کرتا کی ہوں کہ ان کو اپنے سامنے ہمیشہ وہ مقصد رکھنا چاہئے جو اسلام کا منتہی ہے اور جس کیلئے تحریک جدید جاری کی گئی ہے۔میں اس یقین اور وثوق پر اب قائم ہو چکا ہوں۔ایسا ہی کی بلکہ اس سے بھی بڑھ کر جیسے دنیا میں کوئی مضبوط ترین چٹان قائم ہو کہ دنیا کا واحد علاج اس وقت مغربیت کا کچلتا ہے۔جب تک ہم مغربیت کو کچل نہیں سکتے اُس وقت تک دنیا میں روحانیت قائم نہیں ہو سکتی۔یہ ناسور ہے جو دنیا کو ہلاک کر رہا ہے اور جب تک اس ناسور کو کاٹ کر الگ پھینک نہیں دیا جائے گا دنیا میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔منافقت اس سے ترقی کرتی ہے، کفر اس سے ترقی کرتا ہے، نافرمانی اس سے ترقی کرتی ہے، شرک اس سے ترقی کرتا ہے، مداہنت اس سے ترقی کرتی ہے، اباحت اس سے ترقی کرتی ہے، دہریت اس سے ترقی کرتی ہے۔غرض یہ ساری بیماریوں کی جان ہے اور اس کے کسی ایک حصہ کو بھی باقی رہنے دینا ایسا ہی ہے جیسے طاعون یا ہیضہ کے بہت سے کیڑے تو مار دیئے جائیں مگر