زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 173
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 173 جلد دوم دیجئے۔باقی رہی نرمی کرنی سو خدا کی قسم ! اگر میری قوم سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں بھی لا کر رکھ دے تو میں اس تعلیم کے پھیلانے میں کسی قسم کی کمی نہیں کروں گا صلى الله جو خدا نے میرے سپرد کی ہے۔6 کتنی مایوسی کی گھڑیوں میں رسول کریم ﷺ کے سامنے ایک بات پیش کی گئی اور کس رنگ میں آپ سے ایک مطالبہ کیا گیا مگر رسول کریم می نے کتنا شاندار جواب دیا کہ معمولی حالات نہیں اگر کفار زمین و آسمان میں بھی تغیر پیدا کر دیں اور حالات ان کے ایسے موافق ہو جائیں کہ سورج پر بھی ان کا قبضہ ہو جائے اور نہ صرف مکہ میں یہ مجھے پناہ نہ لینے دیں بلکہ آسمان کے ستارے بھی ان کے ساتھ مل جائیں اور یہ سب مل کر مجھے کچلنے اور مجھے تباہ وبرباد کرنے کیلئے اکٹھے ہو جائیں تب بھی میں خدا تعالیٰ کے حکم کو چھوڑنے کیلئے تیار نہیں۔یہ وہ ایمان تھا کہ جب محمد عہ سے اس کا خدا تعالیٰ نے مظاہرہ کرایا تو اس کے بعد آپ کو حکم دیا کہ جاؤ ایک نئی زمین ہم نے تمہارے لئے تیار کر دی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاؤ۔وہ زمین مدینہ تھی جہاں خدا تعالیٰ نے ایک ایسی جماعت کھڑی کر دی جس نے اسلام کیلئے اپنے آپ کو قربانیوں کیلئے پیش کیا اور اپنے دعوئی کو نباہا۔یہ چیز ہے جس کی اس وقت بھی ضرورت ہے۔میں نے مدتوں دیکھا مگر خاموش رہا، میرے کانوں نے سنا مگر میری زبان نہیں ہلی مگر ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ وقت آ گیا کہ خدا تعالیٰ نے میرے دل میں یہ بات ڈال دی کہ اسلام کی اشاعت کیلئے کسی مداہنت اور کسی کمزوری کی قطعاً ضرورت نہیں۔آج تم کو مغربیت کو کچلنے کیلئے کھڑا کیا گیا ہے نہ کہ مغربیت کی تقلید کرنے کیلئے۔اگر تم مغربیت کو کچل نہیں سکتے تو بہتر ہے کہ تم اپنی شکست تسلیم کر لو۔تم سے ایک بالا ہستی موجود ہے اس کی طرف اپنی نگا ہیں اٹھاؤ اور اس سے کہو کہ ہم ہار رہے ہیں تمام فتح اور کامیابی تیرے ہاتھ میں ہے تو آپ اپنے فضل سے ہمیں کامیابی عطا فرما۔رسول کریم ﷺ کا نمونہ تمہارے سامنے ہے۔آپ اپنی قوم کو منوانے کیلئے ہر گز تیار