زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 172
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 172 جلد دوم رسول کریم ﷺ کے چچا جن کا اس واقعہ میں میں ذکر کر رہا ہوں ان کا نام ابوطالب تھا انہوں نے آپ کو بلایا اور کہا اے میرے بھتیجے! تجھے معلوم ہے کہ میں نے تیری خاطر اپنی قوم سے لڑائی کی۔پھر تجھ کو معلوم ہے کہ تیری تعلیم سے تیری قوم کتنی متنفر اور کس قدر بیزار ہے۔آج اس قوم کے بہت سے معزز افراد مل کر میرے پاس آئے تھے اور وہ کہتے تھے کہ تو صرف اتنی سی نرمی کر دے کہ بتوں کے متعلق سخت الفاظ کا استعمال چھوڑ دے۔اگر تو اس بات کیلئے تیار نہ ہو تو پھر وہ کہتے ہیں کہ ہم ابو طالب سے بھی اپنے تعلقات منقطع کر لیں گے۔تجھ کو معلوم ہے کہ میں اپنی قوم کو نہیں چھوڑ سکتا اور نہ اپنے تعلقات اس سے منقطع کر سکتا ہوں۔پس کیا تو میری خاطر اپنی تعلیم میں اتنی معمولی سی کمی نہیں کرے گا؟ یہ مطالبہ ایسے منہ سے نکلا تھا کہ یقیناً دنیوی لحاظ سے اس کا رڈ کرنا نہایت مشکل تھا۔ہمارے مبلغ جو مغرب میں تبلیغ اسلام کیلئے جاتے ہیں ان کے سامنے اس قسم کی جذباتی تقریر کرنے والا کوئی صلى الله نہیں ہوتا۔پس ہم سمجھ سکتے ہیں کہ اُس وقت رسول کریم ﷺ کے کیا جذبات تھے۔ایک طرف آپ کا یہ عقدِ ہمت تھا کہ زمین و آسمان مل سکتے ہیں مگر میں وہ تعلیم نہیں چھوڑ سکتا جس کی اشاعت کیلئے خدا تعالیٰ کی طرف سے میں مبعوث کیا گیا ہوں۔اور دوسری طرف ابوطالب جو آپ کا نہایت محسن اور آپ کا چا تھا ، اس کے جذبات آپ کے سامنے تھے اور آپ چاہتے تھے کہ اس کے ان احسانوں کا جو اس نے آپ پر کئے اور اُن قربانیوں کا جو اس نے آپ کی خاطر کیں کسی نہ کسی صورت میں بدلہ دیں۔لیکن خدا تعالیٰ کی تعلیم کے مقابلہ میں بندوں کا احسان کیا حقیقت رکھتا ہے کہ اس کی طرف توجہ کی جاتی۔ان جذبات کے تلاطم نے رسول کریم ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہا دیئے اور آپ نے اپنے چچا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا میرے چا! میں آپ کیلئے ہر قربانی کرنے کیلئے تیار ہوں لیکن خدا تعالیٰ کی تعلیم کی اشاعت میں میں کسی فرق اور امتیاز کو روا نہیں رکھ سکتا۔اے چا! آپ کی تکلیف مجھے تکلیف دیتی ہے اور آپ کا دکھ مجھے دکھ دیتا ہے لیکن اس معاملہ میں اگر آپ کی قوم آپ کی مخالفت کرتی ہے اور آپ میرا ساتھ نہیں دے سکتے تو مجھے چھوڑ الله