زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 166
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 166 جلد دوم انہیں مسلمان بناتا ہے۔پھر اگر اس راہ میں وہ مر بھی جاتا ہے تو خدا تعالیٰ کے حضور کسی اجر کا مستحق نہیں ہو سکتا۔تاریخوں میں آتا ہے رسول کریم ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو جنگ میں کفار سے بڑے زور سے لڑ رہا تھا۔مجھے صحیح یاد نہیں کہ احد کی جنگ تھی یا کوئی اور ، بہر حال ایک جنگ میں ایک شخص نہایت جوش سے لڑائی کر رہا تھا اور کفار کو قتل کر رہا تھا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر کسی شخص نے دنیا کے پردہ پر چلتا پھرتا دوزخی دیکھنا ہو تو وہ اس شخص کو دیکھ لے۔صحابہ نے جب یہ سنا تو وہ سخت حیران ہوئے کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ جو شخص اس وقت سب سے زیادہ اسلام کیلئے قربانی کر رہا ہے وہ دوزخی ہو۔ایک صحابی کہتے ہیں بعض لوگوں کے چہروں پر تر ڈر کے آثار دیکھ کر میں نے فیصلہ کیا کہ میں اس شخص کو نہیں چھوڑوں گا جب تک اس کا انجام نہ دیکھ لوں۔چنانچہ وہ اس کے ساتھ ہو لئے یہاں کی تک کہ اسی لڑائی میں وہ زخمی ہوا۔جب اسے میدانِ جنگ سے الگ لے جایا گیا تو شدید کرب کی حالت میں وہ اس قسم کے الفاظ اپنی زبان سے نکالتا جن میں خدا تعالیٰ کی رحمت سے مایوسی اور اس کے متعلق اظہار شکوہ ہوتا۔لوگوں نے جب دیکھا کہ اس کی حالت نازک ہے تو انہوں نے اس کے پاس آنا شروع کیا اور کہنے لگے ابشِرُ بِالْجَنَّةِ } تجھے جنت کی بشارت ہو۔مگر وہ اس کے جواب میں کہتا مجھے جنت کی بشارت نہ دو بلکہ دوزخ کی بشارت دو کیونکہ میں خدا کیلئے نہیں لڑا تھا بلکہ اپنے نفس کیلئے جنگ میں شامل ہوا تھا۔اور کفار کا میں نے اس لئے مقابلہ کیا تھا کہ میں نے بعض پرانے بدلے ان سے لینے تھے۔آخر جب درد کی شدت زیادہ ہو گئی تو اس نے زمین میں ایک نیزہ گاڑا اور اس پر اپنا پیٹ رکھ کر خود کشی کر لی۔وہ صحابی جو اس شخص کا انجام دیکھنے کیلئے اس کے ساتھ لگے ہوئے تھے جب انہوں نے دیکھا کہ اس نے خود کشی کر لی تو وہ رسول کریم ﷺ کے پاس آئے۔رسول کریم میں ہے اس وقت صحابہ میں لیٹے ہوئے تھے۔اس صحابی نے آتے ہی بلند آواز سے کلمہ شہادت پڑھا اور کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کی کہ آپ اس کے رسول ہیں۔رسول کریم ﷺ نے بھی فرمایا میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ