زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 167
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 167 جلد دوم خدا ایک ہے اور یہ کہ میں اس کا رسول ہوں۔پھر آپ نے دریافت فرمایا تم نے یہ کلمہ شہادت کیوں پڑھا ہے؟ اس نے عرض کیا يَا رَسُولَ اللہ ! جب آپ نے ایک شخص کے متعلق آج یہ کہا تھا کہ اگر کسی نے دنیا کے پردہ پر چلتا پھرتا دوزخی دیکھنا ہو تو وہ اس کو دیکھ لے تو مجھے محسوس ہوا کہ بعض لوگوں کے دل میں تر ڈر پیدا ہوا ہے۔اس وجہ سے میں اس کے ساتھ ہی رہا تا کہ میں اس کا انجام دیکھوں۔چنانچہ میں اب بتانے آیا ہوں کہ حضور کی بات درست نکلی اور اس نے خود کشی کر لی ہے۔2ے تو دنیا میں انسان ادنیٰ سے ادنی چیز کیلئے بھی قربانیاں کر لیتا ہے۔دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ وہ قربانی کس مقصد کیلئے کی جا رہی ہے۔جب قربانی کسی اعلیٰ مقصد کیلئے کی جارہی ہو تو وہ قابل قدر ہوتی ہے۔لیکن وہی قربانی جب اونی مقاصد کیلئے کی جائے تو اس کی حیثیت کچھ بھی نہیں رہتی۔ہجرت دیکھ لو کیسی اعلیٰ چیز ہے۔مگر رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ مہاجر بھی ایک درجہ کے نہیں ہوتے بلکہ لوگ کئی چیزوں کیلئے ہجرت کرتے ہیں۔کوئی کسی عورت کیلئے ہجرت کرتا ہے، کوئی کسی کیلئے کوئی کسی کیلئے مگر فر ما یا اصل ہجرت وہی ہے جو خدا تعالیٰ کیلئے کی جائے۔3 اس کے مطابق دنیا کے پردہ پر دیکھ لو عورتوں کی خاطر قربانیاں کرنے والے ملتے ہیں یا نہیں؟ ہائیکورٹ کے جوں کے فیصلے پڑھ کر دیکھ لو۔بیسیوں کیس شائع ہوتے ہیں جن میں لوگ ایک دوسرے کا محض اتنی سی بات پر سر پھاڑ دیتے ہیں کہ فلاں عورت سے میں شادی کروں گا تم شادی نہیں کر سکتے۔تو جذبات کی شدت میں انسان بعض دفعہ عورت کیلئے بھی اپنی جان قربان کر دیتا ہے۔پھر کیا فرق ہے ان قربانی کرنے والوں میں اور اُن قربانی کرنے والوں میں جنہوں نے محمد رسول اللہ ﷺ کے دائیں بائیں اپنی جان دی۔فرق صرف یہی ہے کہ ایک نے سفلہ جذبات کیلئے قربانی کی اور دوسرے نے اعلیٰ جذبات کے ماتحت قربانی کی۔اسی طرح اگر کوئی دکھاوے کیلئے لوگوں کو نام کے مسلمان بنا تا اور محض تعداد پوری کر کے ہمیں دکھا دیتا ہے اور یہ کوشش نہیں کرتا کہ ان کے اندر اسلام کی حقیقی روح پیدا ہو تو یہ بالکل جھوٹ ہوگا اگر ہم کہیں کہ وہ اسلام کیلئے قربانی کر رہا ہے کیونکہ جو کچھ اس نے پیدا کیا