زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 165
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 165 جلد دوم مقابلہ نہیں کرتا اسے حقیقی قربانی کرنے والا ہم ہر گز نہیں کہہ سکتے۔یہ خواہش ہزاروں لوگوں کے دلوں میں پائی جاتی ہے کہ وہ امریکہ یا انگلینڈ جائیں اور سوائے ان دو فیصدی کے جن کے نزدیک وہاں کے تمام آرام و آسائش کے سامان گھر کے مقابلہ میں کوئی حقیقت نہیں رکھتے وہ یہاں ہل چلانا پسند کر لیں گے مگر امریکہ کی بجلی کو جس سے وہاں پر کام ہوتا ہے نا پسند کریں گے۔اس قسم کے لوگوں کیلئے بے شک وہاں جانا بھی قربانی ہے مگر ہمارے پانچ سات مبلغوں میں سے کوئی ایک ایسا ہوگا ورنہ میچارٹی ایسے لوگوں کی نہیں ہے۔میجارٹی ایسے ہی لوگوں کی ہے جو دنیوی آرام و آسائش والی جگہ میں جا کر قلیل آرام والی جگہ کو بھول جاتے ہیں۔پس ان مبلغین کا استثناء کرتے ہوئے جن کی طبائع ایسی نازک واقع ہوتی ہیں اور جن کا مغربی ممالک میں جانا بھی ایک قسم کی قربانی ہے خواہ یہ جذباتی قربانی ہی ہے مادی نہیں کیونکہ ایسے شخص کو بہر حال وہاں کا آرام پہنچ رہا ہوتا ہے گو اس کے جذبات اور ہوں۔اصل اور حقیقی قربانی یہ ہے کہ مغربی رو کا مقابلہ کیا جائے۔اگر ہم اس رو کا مقابلہ نہیں کرتے تو یقینی طور پر ہم اس مقصد میں ناکام رہتے ہیں جس مقصد کے پورا کرنے کیلئے ہمیں بھیجا جاتا ہے یا جس مقصد کے پورا کرنے کیلئے ہم نے اپنے آپ کو پیش کیا تھا۔پس اس امر کا کوئی سوال نہیں کہ وہاں ایک شخص مسلمان ہوتا ہے یا دو۔اس امر کا کوئی سوال نہیں کہ تمہاری کوششوں کا نتیجہ اچھا نکلتا ہے یا برا۔نتیجہ کے تم ذمہ دار نہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ صاف طور پر فرماتا ہے لَا يَضُرُّكُم مَّنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمُ 1 اگر تم اسلام پر قائم رہتے ہو تو خواہ ساری دنیا اسلام پر قائم نہیں رہتی خدا تم سے یہ نہیں پوچھے گا کہ تم نے کیوں اس قدر کوشش نہ کی کہ وہ اسلام لانے پر مجبور ہو جاتی۔لیکن اگر تم گمراہی میں مبتلا ہو جاتے ہو تو پھر خدا تم سے ضرور مواخذہ کرے گا۔پس جو شخص وہاں کے لوگوں کو مسلمان بنانے یا ان کو مسلمان کہلانے کے شوق میں اسلامی تمدن اسلامی احکام اور اسلامی اصول میں سے ایک چھوٹے سے چھوٹے حکم کو بھی نظر انداز کرتا ہے وہ خدا کیلئے لوگوں کو مسلمان نہیں بناتا بلکہ اپنے نام اور اپنی شہرت کیلئے ፡