زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 164
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 164 جلد دوم نہیں کرتا اور دعویٰ یہ کرتا ہے کہ میں قربانی کر رہا ہوں تو وہ اپنے دعوئی میں جھوٹا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے۔ایک نامرد اگر کہے کہ میں عفیف ہوں تو اس کا دعوی کعفت کوئی حقیقت نہیں رکھے گا۔یا ایک نابینا شخص اگر کہے کہ میں کبھی کسی غیر محرم پر نگاہ نہیں ڈالتا تو یہ اس کی کون سی خوبی ہے۔خوبی اور قربانی اس وقت ہوتی ہے جب کسی شخص کے سامنے کوئی ناجائز بات پیش کی جائے اور وہ طاقت رکھنے کے باوجوداللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اس میں حصہ نہ لے۔پس محض انگلینڈ یا امریکہ میں چلے جانا کوئی قربانی نہیں۔میں احمدیوں میں سے ایسے کئی پیش کر سکتا ہوں جو وہاں جانے کیلئے تیار ہیں بلکہ دو تین احمدی تو گزشتہ دنوں یہاں تک کہتے تھے کہ ہمیں آپ صرف سرٹیفکیٹ دے دیں ہم امریکہ میں مفت تبلیغ کرنے کیلئے تیار ہیں۔اور میں دیکھتا ہوں کہ ہر سال دو تین آدمی ایسے ضرور آ جاتے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم نہ تنخواہ مانگتے ہیں نہ سفر خرچ بلکہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں صرف سرٹیفکیٹ دے دیں تا امریکہ میں ہمیں داخل ہونے کی اجازت مل جائے اور وہاں کی جماعت کو کہہ دیا جائے کہ وہ ذرا ہمارا خیال رکھے۔ہم نے اپنے اخراجات کا بھی انتظام کر لیا ہے آپ صرف اتنا کریں کہ ہمیں سرٹیفکیٹ دے دیں۔پس خالی انگلینڈ یا امریکہ میں جانا کوئی چیز نہیں بلکہ اصل چیز یہ ہے کہ انسان اس روح اور اس ارادہ سے جائے کہ میں نے وہاں سچا اسلام پیدا کرنا ہے۔مجھے افسوس ہے کہ مغربی ممالک میں اب تک سچا اسلام پیدا کرنے میں ہمیں پوری کامیابی حاصل نہیں ہوئی اور اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ ہمارے مبلغین صرف یہ کوشش کرتے ہیں کہ وہ دس ہیں یا پچاس سو آدمی ہمیں مسلمان دکھا دیں۔وہ اس بات کی کوشش نہیں کرتے کہ ایک سچا اور صاف مسلمان خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کریں۔حالانکہ ہمارے سامنے سو مسلمان پیش کر دینا کوئی بات نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے سامنے ایک سچا مسلمان پیش کرنا بہت بڑی بات ہے۔پس مغرب میں جانے والے مبلغین میں سے ہم اسی کو صحیح قربانی کرنے والا سمجھ سکتے ہیں جو مغرب کی رو کا مقابلہ کرے۔جو شخص اس روکا