زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 163

زریں ہدایات (برائے مبلغین) 163 جلد دوم مغرب کے لوگ ہنستے ہیں۔اگر ہماری طرف سے جانے والا مبلغ مغربی لوگوں کے اس تمسخر اور اس استہزاء اور اس ہنسی کو برداشت کرتا ہے اور مضبوطی سے اسلامی تعلیم پر قائم رہتا ہے تو وہ بے شک قربانی کر رہا ہے۔لیکن اگر وہ کمزوری دکھاتا ہے تو وہ کوئی قربانی نہیں کر رہا بلکہ ایک تکلیف دہ جگہ سے نکل کر آرام والی جگہ میں بیٹھا ہوا ہے اور اس آرام اور آسائش کو اپنے لئے قربانی قرار دیتا ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کہتے ہیں کوئی پاگل بادشاہ تھا۔اس کے دل میں یہ خیال بیٹھ گیا کہ میری بیٹی کی اب اتنی بڑی شان ہوگئی ہے کہ اس کی شادی آسمان کے کسی فرشتہ سے ہی ہو سکتی ہے دنیا کے کسی انسان سے نہیں ہو سکتی۔اتفاقاً ایک دن بگولے میں اڑتا ہوا ایک پہاڑی آدمی اس کے محل کے قریب آ گیا۔لوگوں نے فوراً بادشاہ کو خبر پہنچائی۔بادشاہ سن کر کہنے لگا یہی فرشتہ ہے جو آسمان سے اترا ہے میں اس سے اپنی بیٹی کی شادی کروں گا۔وہ پہاڑی آدمی تھا، نہ کھانا جانتا تھا نہ پینا مگر ز بر دستی بادشاہ نے اپنی لڑکی کی اس سے شادی کر دی۔کچھ عرصہ کے بعد جب وہ اجازت لے کر اپنے ملک کو واپس گیا تو اس کی ماں اور دوسرے رشتہ دار جو عرصہ سے اس کے منتظر تھے اسے دیکھ کر رونے لگ گئے جیسا کہ ہمارے ملک میں عام دستور ہے۔وہ کہنے لگا میں تجھے کیا بتاؤں مجھ پر کیا کیا ظلم ہوئے۔اسے کھانے کیلئے صبح وشام پلاؤ دیا جاتا تھا وہ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا کہ مجھے صبح و شام کیڑے پکا پکا کر کھلائے جاتے تھے اور اس طرح مجھ کو دکھ دیا جاتا۔پھر بادشاہ کے ملازم اسے صبح و شام نرم گدیلوں پر لٹا کر چونکہ دبایا بھی کرتے تھے اس لئے کہنے لگا ماں مجھ پر صرف اتنا ہی ظلم نہیں ہوا بلکہ وہ صبح وشام میرے اوپر نیچے موٹے موٹے کپڑے ڈال کر مجھے کوٹنے لگ جاتے تھے۔یہ سن کر ماں نے بھی زور سے چیخ ماری۔وہ پھر بھی کہنے لگا اے ماں ! مجھ پر اتنے ظلم ہوئے مگر میں پھر بھی نہیں مرا۔اس مثال میں پہاڑی آدمی نے اپنی جس قربانی کا ذکر کیا ہے اس سے زیادہ مغربی ممالک میں جانے والوں کی قربانی کی کوئی حیثیت نہیں۔اگر وہاں کوئی قربانی ہے تو ان باتوں میں جن کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے۔اور اگر کوئی شخص ان باتوں میں تو قربانی