زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 149
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 149 جلد دوم اپنی فطرت کی بزدلی کا اقرار نہیں کرتا بلکہ اسے چھپانے اور مخفی رکھنے کے لئے دلیلیں دیتا ہے۔دنیا میں مجرم اپنے جرم کا کبھی اقرار نہیں کرتا۔إِلَّا مَا شَاءَ اللہ کوئی نیک اور متقی ہو تو وہ اپنے جرم کا اقرار کر لیتا ہے مگر منافق کبھی اپنے جرم کا اقرار نہیں کرتا۔وہ ہمیشہ اپنے جرم کو چھپانے کے لئے عذر پیش کرتا ہے۔چنانچہ قرآن مجید میں آتا ہے قیامت کے دن کفار خدا تعالیٰ کے سامنے کہیں گے مَا كُنَّا مُشْرِکین 1 کہ ہم مشرک نہ تھے حالانکہ قیامت وہ دن ہو گا جبکہ تمام اسرار کھل جائیں گے، عدالت قائم ہوگی اور آخری فیصلہ کی گھڑی آ جائے گی۔مگر کفار عالم الغیب خدا کے سامنے اپنے جرم کو چھپانے کے لئے صاف کہہ دیں گے کہ ہم پر اتہام لگایا گیا ہے ہم نے تو کبھی شرک نہیں کیا۔تو منافق اپنے جرم کو مخفی رکھنے کے لئے قیامت کے دن بھی عذر پیش کرے گا۔اور بعض دفعہ تو منافق ایسے رنگ میں عذر پیش کرتا ہے کہ وہ بظاہر معقول نظر آتا ہے اور اسے سن کر ایک مخلص آدمی کا دل گداز ہو جاتا ہے۔جیسے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے منافقوں کا یہ عذر بیان فرمایا ہے اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ 2 کہ ہم تو اصلاح کرتے ہیں فساد تو دوسرے لوگ کرتے ہیں۔اس زمانہ میں بھی جبکہ سلسلہ احمد یہ ابتدائی حالت میں سے گزر رہا ہے بعض لوگوں کا ایک طبقہ ایسا ہے جو اپنی ذمہ داریوں سے بچنے کے لئے عذر تر اشتا رہتا ہے۔پھر ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو وسعت نظری کے نہ ہونے کی وجہ سے موجودہ زمانہ کو دیکھتے ہوئے اپنے آئندہ پروگرام کو نہیں سمجھتا اور نہ ہی وہ اسے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے حالانکہ ہر سمجھدار انسان قطع نظر اس سے کہ وہ اپنی طاقتوں پر نظر ڈالے اگر وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات پر غور کرے تو اسے ان الہامات میں سے ہی موجودہ زمانہ اور آئندہ زمانہ کے لئے پروگرام مل جائے گا۔ان الہامات کو پڑھ کر انسان اپنے نفس میں سوچے کہ ان میں خدا تعالٰی کے جو وعدے نظر آتے ہیں ان کے لئے مجھے کتنی قربانی کرنی چاہئے اور میں کہاں تک قربانی کر رہا ہوں۔آیا میری قربانی ان ارادوں اور وعدوں کے ساتھ مطابقت بھی کھاتی ہے یا نہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ کئے گئے۔