زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 148

زریں ہدایات (برائے مبلغین) 148 جلد دوم نئی سے نئی تعلیم اسے سکھانا چاہتا ہے۔درسوں اور تعلیموں کو سیکھنے والے دو طرح کے طالب علم ہوتے ہیں۔ایک وہ جنہیں ترقی کرنے کی عادت ہوتی ہے اور ہر نئے سبق پر خوشی محسوس کرتے ہوئے آگے کی طرف قدم بڑھاتے ہیں۔اور ایک وہ طالب علم جنہیں ترقی کرنے کی عادت نہیں ہوتی اور ہر نئے سبق پر اپنے دلوں میں بوجھ محسوس کرتے ہیں۔ایسے طالب علم ہمیشہ ناکام رہتے ہیں۔ان دونوں قسم کے طالب علموں میں فرق یہ ہوتا ہے کہ ترقی کرنے والے طلباء کو ان کے اساتذہ نئی تعلیمیں اور نئے درس دیتے ہیں اور وہ ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔مگر وہ طلباء جو نا کام رہتے ہیں اور ہر نئے سبق اور نئی تعلیم پر اپنے دلوں میں بوجھ محسوس کرتے ہیں ایک وقت آتا ہے کہ ان سے استاد بھی بے تو جہگی سے کام لینے لگ جاتے ہیں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ مومنوں کو نئے سے نئے درس اور نئی سے نئی تعلیم دیتا ہے۔وہ درس کبھی تو خدا تعالٰی کی طرف سے ابتلاؤں کے رنگ میں اور کبھی انعام کے رنگ میں ہوتے ہیں۔اور وہ قوم جسے خدا تعالیٰ ترقی کی انتہائی منازل پر پہنچانا چاہتا ہے اس کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اس کے رستہ میں الہی سنت کے ماتحت روکیں پیدا ہوں اور ان کا ابتلاؤں کے ذریعہ امتحان کیا جائے۔مگر وہ لوگ جو کم حوصلہ ہوتے ہیں وہ معمولی سا ابتلاء دیکھ کر شور مچانا شروع کر دیتے ہیں۔وہ اس شور کے ذریعہ اپنی ذمہ داریوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی لغزشوں کو چھپانے کے لئے مختلف قسم کے عذرات تراشتے ہیں اور اس طرح اپنے آپ کو دوسروں سے علیحدہ کرنا چاہتے ہیں۔وہ دور کی نگاہ سے بے پرواہ ہو کر قریب کی نگاہ پر شور مچاتے ہیں اور اُس جوش کھانے والی ہنڈیا کی مانند جس پر جھاگ آ جاتی ہے اپنے جوش کا اظہار کرتے ہیں۔وہ نادان اس بات سے ناواقف ہوتے ہیں کہ تھوڑی دیر کے بعد جھاگ بیٹھ جائے گی اور جوش ختم ہو جائے گا۔پس ابتلاؤں کے وقت مومنوں اور غیر مومنوں کے درمیان امتیاز ہو جاتا ہے۔مومن ان مشکلات کو دیکھ کر صبر سے کام لیتے ہوئے اپنا قدم آگے کی طرف بڑھاتا ہے اور غیر مومن مشکلات کو دیکھ کر گھبراتا اور شور مچانے لگ جاتا ہے۔وہ اس طریق کے اختیار کرنے میں