زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 144

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 144 جلد دوم مغربیت دراصل چمکتا ہوا پیتل ہے مگر ان کے اپنے گھروں میں سونا موجود ہے اور سونے کے بدلے پیتل لینا ہر گز دانائی نہیں کہلا سکتا۔جاپان کے پاس سونا نہیں اس کے پاس بھی پیل ہے اور مغرب والوں کے پاس بھی پیتل ہے مگر جاپان اس بات کے لئے تیار نہیں کہ وہ اپنے پینل کو ایک دوسرے پیتل سے تبدیل کرے۔لیکن ہمارے گھر میں تو سونا ہے ہم اس سونا کو چھوڑ کر مغربیت کا پیتل کیوں لیں۔پس یاد رکھو ہمارا کام یہ نہیں کہ ہم مغربیت کی نقل کریں بلکہ ہمارا فرض ہے کہ ہم مغربیت کا سر کچلیں اور اسے اسلام کا غلام بنا کر اسلام میں داخل کریں۔اگر ہم ایسا نہیں کرتے بلکہ اہل مغرب کی نقل شروع کر دیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کا مصلح مسیح موعود نہیں بلکہ مصلح یورپین فلاسفر ہیں۔اور اگر انہی کے خیالات نے دنیا کی اصلاح کرنی تھی تو پھر وہ اس بات کا حق رکھتے تھے کہ انہیں اصلاح عالم کے لئے کھڑا کیا جاتا اور جانسن اور دوسرے لوگوں کو مسیح موعود بنایا جاتا۔مگر خدا تعالیٰ نے ان لوگوں کو مصلح نہیں بنایا بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اصلاح عالم کے لئے کھڑا کیا ہے۔پس اگر ہم کسی وقت مغرب کے خیالات سے متاثر ہوتے ہیں تو مسیح موعود کا جبہ اتار کر آپ کے دشمنوں کو پہنا دیتے ہیں۔اور شاید اسی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس رؤیا کا اشارہ ہے جس میں آپ نے دیکھا کہ آپ کے چوغہ کو ایک چور اتار کر لے گیا اور پھر اسے واپس لیا گیا 4 اگر ہم اسلام میں مغربیت کو داخل کر لیتے ہیں تو یقیناً مسیح موعود کا جبہ اتار کر مغرب والوں کو پہناتے ہیں۔پس میں نوجوانوں کو خصوصاً ہوشیار کرتا ہوں کہ وہ اس فتنہ کی حقیقت کو سمجھیں۔وہ زمانہ گزر گیا جب اہل مغرب کی طرف سے ایک بات اٹھتی اور دنیا اسے فوراً صحیح تسلیم کر لیتی تھی۔اب مسیح موعود کا زمانہ ہے اور خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ مغربیت کے رعب کو مٹا دے۔بے شک ابھی لوگوں کو مغربیت کا رعب متا نظر نہیں آ رہا اور جب تم اسلامی احکام ان کے سامنے پیش کرو گے تو وہ ہنسیں گے اور کہیں گے ان مسائل پر دنیا کہاں عمل کر سکتی