زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 143

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 143 جلد دوم جب پہنچے گا وہ کنارہ گر جائے گا اور سیر کرنے والا ڈوب جائے گا۔پس یا د رکھو اس وقت تم میں سے کسی کا ان تاثرات سے متاثر ہونا صرف حماقت ہی نہیں بلکہ قومی غداری بھی ہے۔ایک زمانہ ہوتا ہے جب لاعلمی کی وجہ سے کسی کام کا کرنا حماقت کہلاتا ہے لیکن جب اس کی برائیاں ظاہر ہو جائیں اور قوم پر اس کے جو زہر یلے اثرات پڑ سکتے ہوں وہ نمایاں ہو جائیں اُس وقت ان کا موں کو اختیار کرنا قومی غداری کی اور غفلت مجرمانہ ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ دنیا میں پھر دوبارہ اسلام کو قائم کرنا چاہتا ہے اور یہ ممکن ہی نہیں کہ جس تعلیم کو اس نے پیش کیا اور جس تعلیم کا عملی نمونہ رسول کریم ﷺ نے دکھایا اس میں کوئی تغیر و تبدل ہو سکے۔ہمارے لئے اب یہ گنجائش نہیں رہی کہ ان احکام کی وہ تاویلات کریں جو اسلام کے منشاء کے خلاف ہوں۔کیونکہ شریعت رسول کریم یا لال لال ہے ختم ہوگئی اور سنت بھی رسول کریم ﷺ پر ختم ہوگئی اب اس میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکتا۔خواہ کوئی نبی ہو یا غیر نبی۔پس وہ چیز جسے رسول کریم ﷺ نے دنیا میں قائم کیا اگر ہم اسے قائم کرتے ہیں تو رسول کریم ﷺ کی بعثت کی صداقت کا ثبوت دیتے ہیں۔اور اگر ہم ان احکام میں تبدیلی جائز سمجھتے یا تبدیلی کو قبول کر لیتے ہیں تو نہ صرف رسول کریم ﷺ کی بعثت کی غرض وغایت کو مفقود کرتے ہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقصد بعثت کو بھی فراموش کر دیتے ہیں۔پس ہمارا فرض ہے کہ ہم مغربیت کا مقابلہ کریں۔دیکھو جاپان اس وقت بنیادی لحاظ سے مغرب کا مقابلہ کر رہا ہے اور بعض امور میں وہ عمدگی سے اسے شکست دے رہا ہے۔اگر جاپان بغیر مذہب کے مغربیت کو شکست دے سکتا ہے، اگر جاپان کے نوجوان مارکس کے فلسفہ کو پڑھتے ہوئے اس لئے اسے ٹھکرا دیتے ہیں کہ وہ جاپان کی ترقی میں روک ہے، اگر جاپان کے مزدور انگلستان کے سوشلزم کو اس لئے پرے پھینک دیتے ہیں کہ اگر وہ بھی ویسے ہی مطالبات کریں گے تو جاپان کی ترقی میں روک ثابت ہوں گے تو میں نہیں سمجھتا کیوں احمدی نوجوان مغربیت کو ٹھکر انہیں سکتے جب ان کے پاس مغربیت سے بہت زیادہ اعلیٰ اور مفید تعلیم ہے اور وہ کیوں اس امر کو نہیں سمجھ سکتے کہ