زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 145
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 145 جلد دوم ہے۔تم پردہ کا مسئلہ پیش کرو گے تو وہ نہیں گے۔تعدد ازدواج کے مسائل بیان کرو گے تو ہنیں گے۔سود کی مخالفت کرو گے تو نہیں گے۔عورتوں سے مصافحہ کی مخالفت کرو گے تو ہنسیں گے۔مگر تم انہیں بننے دو اور کہو دن کے پہلے حصے میں تم ہنس لو لیکن جب شام آئے گی تو تم بننے کے قابل نہ رہو گے۔اور پھر جب صبح نکلے گی تو خدا تعالیٰ نے ان کی بجائے تمہیں حکومت دی ہوگی۔کیونکہ ان کے پاس وہ خیالات ہیں جو آج کے ہیں اور تمہارے پاس کی وہ خیالات ہیں جو کل کے ہیں۔اگر کل کے خیالات جاننے والا آج کے خیالات والوں سے مرعوب ہو جاتا ہے تو وہ احمق ہے۔اور جس وقت کل کا دن چڑھے گا دنیا اس بیوقوف پر ہنسے گی۔جس وقت یورپ نے وہ باتیں کہیں جو آج وہاں رائج ہیں اُس وقت بھی لوگ ہنسا کرتے تھے مگر اُس وقت یورپ کے خیالات گل کے تھے اور ہننے والوں کے خیالات گل کے نہیں تھے۔ایک زمانہ تھا جب انگریز داڑھی رکھتے۔بادشاہ کا حکم تھا کہ داڑھی نہیں رکھنی چاہئے مگر لوگ اس حکم کو نہ مانتے۔وہ حکومت کی طرف سے سزائیں برداشت کر لیتے مگر داڑھی رکھنا نہ چھوڑتے کیونکہ کہتے یہ مرد کا نشان ہے اسے ترک نہیں کیا جا سکتا۔لیکن اب کی وہ زمانہ آ گیا ہے کہ اگر کوئی داڑھی رکھتا ہے تو اس پر تمسخر اڑایا جاتا ہے اور اس کے متعلق فوراً یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ یا تو یہ رومن کیتھولک پادری ہے یا پاگل ہے۔یا پھر بادشاہ کی داڑھی ہوا کرتی تھی اور شاید وہ بھی نہیں رہی کیونکہ موجودہ بادشاہ پرنس آف ویلز ہونے کی حالت میں داڑھی نہیں رکھتے تھے۔اس پر اخبارات میں بخشیں ہوئیں اور لکھا گیا کہ یہ محض ایک رواج ہے۔اگر بادشاہ چاہے تو داڑھی رکھ لے نہ چاہے تو نہ رکھے۔اس پر کوئی پابندی نہیں عائد کی جاسکتی۔بہر حال ایک زمانہ تھا جب یورپ داڑھی رکھنا ضروری سمجھتا اور اب یہ زمانہ ہے کہ داڑھی رکھنا عیب سمجھا جاتا ہے۔اسی طرح جب ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت تھی تو ہندو جسے پہنا کرتے تھے مگر اب جبہ پوش مولوی بھی کوٹ پتلون پہنتے ہیں۔زمانہ کے ان تغیرات کو دیکھتے ہوئے میں سمجھتا ہوں کہ اگر رائج الوقت خیالات