زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 111
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 111 جلد دوم عروسة مدینہ کی گلیوں میں صحابہ کی بیویوں کو دشمن گھسیٹتے پھریں 1 میں نے کہا ایک طرف رسول کریم کے بعض صحابہ آپ کی ایک یادگار میں جو خاص طور پر آپ کی طرف منسوب بھی نہیں تھی کچھ تغیر کرنے کے لئے کہتے ہیں تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ صاف انکار کر دیتے ہیں اور ہر خطرہ کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں لیکن ادھر ہم یہ نمونہ پیش کر رہے ہیں کہ وہ مدرسہ احمدیہ جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یادگار بنایا گیا تھا اس پر پورا سال بھی گزرنے نہیں پایا کہ اس کے بند کرنے پر تیار ہو گئے ہیں۔میں سمجھتا ہوں میری اس دلیل نے لوگوں کو زیادہ اپیل کیا۔ادھر میں نے تقریر ختم کی ادھر لوگوں نے کہنا شروع کر دیا مدرسہ احمدیہ ضرور قائم رہنا چاہئے۔مجھے یاد پڑتا ہے میرے بعد شاید خان صاحب برکت علی صاحب بولے۔لوگوں نے کہا اب ہم اور کچھ سنا نہیں چاہتے۔مدرسہ احمدیہ کا قائم رکھنا ضروری ہے۔جب اخلاص سے کوئی شخص بات پیش کرتا ہے تو اس پر قائم بھی رہتا ہے مگر مدرسہ احمدیہ کو بند کرنے والوں میں چونکہ اخلاص نہ تھا اس لئے اپنی بات پر قائم نہ رہے۔جب مدرسہ احمدیہ کو جاری رکھنے کے حق میں کوئی بات پیش ہوتی تو وہ کہہ دیتے یہی تو ہمارا مطلب تھا ہم بھی یہی کہتے تھے۔آخر کہا گیا کہ یہ امر تمام جماعتوں کے سامنے پیش کیا جائے گا۔انہوں نے سمجھا کہ اُس وقت جذبات ٹھنڈے ہو جائیں گے اور مدرسہ احمدیہ کو بند کرنے پر لوگوں کو آمادہ کر سکیں گے۔چنانچہ ایجنڈا میں اس تجویز کو جس رنگ میں درج کیا گیا اس سے یہی ظاہر ہوتا تھا کہ مدرسہ احمدیہ کا بند کرانا منظور ہے۔لیکن جماعت کے لوگ چونکہ محسوس کر چکے تھے کہ مدرسہ احمد یہ ضروری چیز ہے اس لئے تمام جماعتوں کی طرف سے یہی رائے آئی کہ مدرسہ احمدیہ قائم رہنا چاہئے۔پس جب میں کوئی ایسا اجتماع دیکھتا ہوں تو یہ دونوں باتیں جو میرے بچپن کے کام ہیں جوانی کے کئی کاموں سے زیادہ خوشنما اور پسندیدہ نظر آتے ہیں۔میں آج بھی اسی خیال پر قائم ہوں جس پر اُس وقت تھا۔قرآن کریم سے صراحتاً معلوم ہوتا ہے کہ ایک خاص جماعت کو دین کی خدمت کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلْتَكُنْ مِنْكُمُ أُمَّةً