زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 110
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 110 جلد دوم کر رہے تھے اور بڑے زور سے یہ کہہ رہے تھے کہ ہماری جماعت بڑی عقل مند ہے وہ کسی چیز کا ضائع ہونا گوارا نہیں کر سکتی۔ہمیں چونکہ انگریزی دان مبلغ چاہئیں اس لئے مدرسہ احمدیہ پر اس قدر خرچ کرنے کی ضرورت نہیں۔اُس وقت میں نے دیکھا کہ قریباً سب لوگ متاثر ہورہے تھے۔چنانچہ ان کی تقریر کے بعد کچھ اور لوگ کھڑے ہوئے اور انہوں کی نے ان کی تائید کی اور آوازیں آنے لگیں کہ ٹھیک ہے ایسا ہی ہونا چاہئے۔اس قسم کی مجلس میں بولنے کا میرے لئے پہلا موقع تھا۔اُس وقت میں نے اس طرف توجہ دلائی کہ دنیا میں ہر چیز اپنے لئے ماحول چاہتی ہے اور اس کے لئے ضروری انتظامات کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ خیال کر لینا کہ کوئی شخص کچھ دن دینیات کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد دین سے پوری طرح واقف ہو سکتا ہے اور اس کے تاثرات دین کے متعلق ایسے مضبوط ہو سکتے ہیں جیسے اس شخص کے جسے بچپن سے دین کی تعلیم حاصل کرنے پر لگایا گیا ہو۔یہ غلط ہے۔دین سے صحیح واقفیت رکھنے والے علماء پیدا کرنے کے لئے مدرسہ احمدیہ کی ضرورت ہے اور اسے قائم رکھنا چاہئے۔پھر خدا تعالیٰ نے مجھے اس موقع پر ایک جذباتی دلیل بتادی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی وفات کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ مدرسہ احمدیہ کو آپ کی یاد گار بنا دیا جائے۔میں نے کہا ہم سے پہلے کچھ لوگ تھے جو رسول کریم ﷺ کے صحابہ تھے۔جب رسول کریم ﷺ نے رحلت فرمائی تو ایک عام بغاوت پھیل گئی اور ایسا خطرہ پیدا ہوا کہ مدینہ بھی محفوظ نہیں رہے گا۔اُس وقت صرف تین مقامات پر نماز با جماعت ہوتی تھی اور بہت سے لوگوں نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا تھا۔اُس وقت بعض صحابہ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے درخواست کی کہ آپ اس وقت ذرا نرمی سے کام لیں اور کچھ قوموں سے جو ز کوۃ دینے سے انکار کر رہی ہیں زکوۃ لینا چھوڑ دیں۔اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر کوئی شخص رسول کریم اللہ کے وقت اونٹ باندھنے کی رسی بھی زکوۃ میں دیتا تھا تو میں اسے بھی نہ چھوڑوں گا۔خواہ خون کی ندیاں بہہ جائیں اور خواہ خطرہ اتنا بڑھ جائے کہ