زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 84
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 84 جلد اول جاری ہوتی ہیں کہ وہ خود نہیں جانتا۔اس گر کا میں نے بڑا تجربہ کیا ہے۔بعض دفعہ ایسا بھی ہوا ہے کہ میں پانچ پانچ منٹ تقریر کرتا چلا گیا ہوں مگر مجھے پتہ نہیں لگا کہ کیا کہہ رہا ہوں۔خود بخود زبان پر الفاظ جاری ہوتے چلے جاتے ہیں اور اس کے بعد جا کر معلوم ہوتا ہے کہ کس امر پر تقریر کر رہا ہوں۔پچھلے ہی دنوں ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کے خطبہ نکاح کے وقت ایسا ہی ہوا۔جب میں کھڑا ہوا تو پتہ نہیں تھا کہ کیا کہنے لگا ہوں۔مگر کچھ منٹ بول چکا تو پھر بات سمجھ آئی کہ اس مضمون کو بیان کر رہا ہوں۔یہ بات بہت اعلیٰ درجہ کی ہے اور ہر ایک شخص کو حاصل نہیں ہو سکتی۔لیکن چونکہ یہاں ہر طبقہ کے آدمی ہیں اور دوسرے بھی جب اعلیٰ درجہ پر پہنچیں گے تو اس کو سمجھ لیں گے اس کے لئے میں اسے بیان کرتا ہوں۔جب انسان تقریر کرنے کے لئے کھڑا ہو تو بالکل خالی الذہن ہو کر کھڑا ہو اور اسی بات پر اسے بھروسہ ہو کہ جو کچھ خدا بتائے گا وہی بیان کروں گا۔یہ تو کل کا ایک ایسا مقام ہے کہ انسان جو کچھ جانتا ہے اسے بھی بھول جاتا ہے۔ان لوگوں کو بھول جاتا ہے جو اس کے سامنے ہوتے ہیں حتی کہ اپنا نام تک بھول جاتا ہے۔اور جو کچھ اس کی زبان پر جاری ہوتا ہے وہ نہیں جانتا کہ میں کیوں کہہ رہا ہوں اور اس کا کیا مطلب ہے۔مثلاً وہ یہ کہتا ہے کہ خدا کی عبادت کرو۔ان الفاظ کو تو سمجھتا ہے اور ان کا مطلب بھی جانتا ہے مگر یہ اسے پتہ نہیں ہوتا کہ میں نے یہ کیوں کہا ہے اور کس مضمون کے بیان کرنے کے لئے میرے منہ سے یہ الفاظ نکلے ہیں۔جب وہ ایسی حالت میں ہوتا ہے تو پھر یکدم اس پر کشف ہوتا ہے کہ یہ بات ہے جس کو تو بیان کرنے لگا ہے۔مگر یہ بات پیدا ہوتی ہے اپنے آپ کو گرا دینے سے۔جب کوئی انسان اپنے آپ کو بالکل گرا دیتا ہے تو پھر خدا تعالیٰ اسے اٹھاتا ہے۔لیکن اگر کوئی یہ سمجھے کہ میرے پاس علم ہے، میں خوب لیکچر دے سکتا ہوں ، مجھے سب باتیں معلوم ہیں ان کے ذریعہ میں اپنا لیکچر بیان کروں گا تو اسے خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی مدد نہیں ملتی۔