زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 83
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 83 جلد اول آئے تو اس کا اور ہی مطلب ہوتا ہے مگر اُس وقت میرے دل میں یہی ڈالا گیا کہ کہو ہاں تصدیق کرتا ہے اور بتایا گیا کہ وہ کوئی اختلاف پیش ہی نہیں کر سکے گا۔اس نے کہا کہ ان میں تو اختلاف ہے پھر تصدیق کے کیا معنی؟ میں نے کہا کوئی اختلاف پیش تو کرو۔اس پر وہ خوب قہقہہ مار کر ہنسا اور کہا ایک اختلاف؟ اختلاف تو بیسیوں ہیں۔میں نے کہا ایک ہی پیش کرو۔یہ باتیں میرے منہ سے خدا ہی کہلوا رہا تھا ورنہ اختلاف تو فی الواقع موجود ہیں۔گو اس قسم کے اختلاف نہیں ہیں جس قسم کے اس کی مراد تھی۔وہ پادری تھا اور انجیل کا ماہر۔اگر کوئی اختلاف پیش کر دیتا تو بات لمبی جا پڑتی۔مگر چونکہ میرے دل میں ڈالا گیا تھا کہ وہ کوئی اختلاف پیش نہیں کر سکے گا اس لئے میں نے زور دے کر کہا کوئی اختلاف تو پیش کرو۔اس نے تھوڑی دیر سوچ کر کہا قرآن کریم میں لکھا ہے کہ مریخ پرندہ پیدا کیا کرتا تھا انجیل میں اس طرح نہیں لکھا۔میں نے کہا پادری صاحب! آپ تو سمجھدار آدمی ہیں اور تاریخ نویسی کا ارادہ رکھتے ہیں آپ بتائیں کیا اگر ایک مؤرخ کچھ واقعات کو اپنی کتاب میں درج کر دے اور دوسرا ان کو درج نہ کرے تو یہ کہا جائے گا کہ ان کتابوں کا آپس میں اختلاف ہے؟ یہ سن کر اس کے ساتھ جو دو انگریز تھے ان کی بے اختیار ہنسی نکل گئی اور انہوں نے کہا فی الواقع یہ تو کوئی اختلاف نہیں۔اس پر وہ بالکل خاموش ہو گیا۔پس جب انسان خدا تعالیٰ پر بھروسہ کر لیتا ہے تو خدا خود اس کی مدد کرتا ہے اور اسے دشمن پر خواہ اس کا دشمن کتنا ہی قوی ہو کا میاب کر دیتا ہے۔بارھویں بات جس کا میں نے بارہا تجربہ کیا ہے اور کبھی ایسا نہیں بارھویں ہدایت ہوا کہ میں نے اسے استعمال کیا ہو اور اس کا فائدہ نہ دیکھا ہو یہ ہے کہ جب انسان تقریر کرنے کے لئے کھڑا ہو تو ذہن میں جتنے علوم اور جتنی باتیں ہوں ان کو نکال دے اور یہ دعا کر کے کھڑا ہو کہ اے خدا! جو کچھ تیری طرف سے مجھے سمجھایا جائے گا میں وہی بیان کروں گا۔جب انسان اس طرح کرے تو اس کے دل سے ایسا علوم کا چشمہ پھوٹتا ہے جو بہتا ہی چلا جاتا ہے اور کبھی بند نہیں ہوتا۔اس کی زبان پر ایسی باتیں