زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 3
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 3 جلد اول آپ اس خیال کو رد کریں اور بتائیں کہ اگر خدا کے قرنا کی آواز آ چکی ہوتی تو مل کر کام کرنا واجب تھا۔لیکن جبکہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے بگل بجایا ہے تو اس کی آواز کے مقابلہ میں ہر ایک شخص کا اپنی حالت پر کھڑے رہنا ایک خطر ناک جرم ہے، ایک گناہ عظیم ہے جس کی سزا میں اسلام کی ترقی رکے گی نہ کہ ہو گی۔غرض پورے زور سے ان کے خیالات کا قلع قمع کریں اور ہر گز نہ ڈریں۔اگر حیدرآباد میں حق بات کہنے میں روک ہو تو اس شہر کی خاک اپنے پیروں سے جھاڑ کر واپس آ جائیں کہ پھر اس کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے اور حق کو چھپانے سے بہتر ہے کہ حیدر آباد کو اس کی قسمت پر چھوڑ دیا جائے۔یہ ہیں میری ہدایات جن کو آپ دونوں صاحبان اچھی طرح سے سمجھ لیں اور مولوی محمد سعید صاحب، حافظ صاحب محمد اسحاق اور میر بشارت علی صاحب کو واقف کر دیں۔جن سرکاری ملازمین کو اس میں خطرہ ہو وہ بالکل الگ رہیں۔بات ہمیشہ نرم ہو۔لطیف پیرا یہ میں ہو۔میں نے حضرت صاحب کو دیکھا ہے سخت سے سخت بات کو عمدہ پیرا یہ میں بیان فرماتے جو بری نہ لگے۔اسی کا نام حکمت ہے۔نہ اس کا نام کہ حق کو چھپایا جاوے یا ایسے الفاظ میں ادا کیا جاوے کہ موقع مل جائے اور سننے والا اصلی مطلب سمجھ نہ سکے۔پس ان باتوں کو یاد رکھیں۔یہ خدا کا کام ہے نہ ہمارا۔یہ اس کی امانت ہے جو اس کی امانت میں خیانت کرتا ہے اور اس کے حکم پر اپنے خوف یا اپنی ہر دلعزیزی کو مقدم رکھتا ہے وہ خدا کا مجرم ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے مجرموں کو اگر وہ تو بہ نہ کریں چھوڑتا نہیں۔صحابہ نے دین کے لئے جانیں دی ہیں کم سے کم گالیاں سننے سے تو ڈرنا نہیں چاہئے۔افسوس اس مرید پر جس کے کانوں نے وہ گالیاں نہیں سنیں جو اس کے پیر کو ملیں اور افسوس اس متبع پر جس نے اس تکلیف کو برداشت نہ کیا جسے اس کے پیر نے برداشت کیا۔کام بہت ہے اور زندگی کم معلوم ہوتی ہے ہم نے کیا دیکھنا ہے اور ہمارے بعد کے لوگ کیا دیکھیں گے لیکن جن پھولوں پر وہ خوش ہوں گے یہ کانٹے ان سے بہتر ہیں اور جن موتیوں پر وہ نازاں ہوں گے یہ آنسوان سے لاکھوں درجہ بڑھ کر ہیں۔ہمیں تو خدا نے اس لئے پیدا کیا ہے تادین