زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 2 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 2

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 2 جلد اول ہے۔اگر مرزا صاحب بچے تھے تو اس حق کو قبول کرنا چاہئے خواہ ہم کسی کو کیا ہی سمجھیں۔اگر اس طریق پر فیصلہ ہوتا تو کیا اسلام پھیل سکتا ؟ کبھی نہیں۔اسلام تو سب باقی مذاہب کو جھوٹا قرار دیتا ہے۔پھر کیا کوئی اسلام کو قبول کرتا ؟ صداقت دیکھنی چاہئے۔صداقت کے لئے ہر ایک چیز کی قربانی کرنی چاہئے۔اگر مرزا صاحب بچے ثابت ہو جائیں اور ان کا خدا کی طرف سے ہونا معلوم ہو جائے تو اب اگر ان کو ماننے کیلئے ہر ایک چیز کو چھوڑنا پڑے تو بتاؤ کیوں نہ چھوڑا جاوے۔آج مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے مگر ذلیل ہیں۔پہلے کم تھے مگر معزز تھے۔پس یہ نہ خیال کرو کہ فرقہ بندی سے اسلام کمزور ہو جاتا ہے بلکہ جس قدر لوگ خدا کے بنائے ہوئے فرقہ میں آئیں گے اسی قدر جلد اسلام کی ترقی ہو گی۔نہ اسلام نے پہلے مسلمانوں کی کثرت سے ترقی کی نہ اب کرے گا۔پہلے بھی خدا کے فضل سے کی اب بھی خدا کے فضل سے کرے گا۔پس اگر مرزا صاحب بچے ثابت ہو جائیں تو ان کو ماننے والی چھوٹی جماعت دنیا کو فتح کرے گی اور ان کی خاطر دنیا کو چھوڑنے والا ہی کامیاب ہو سکتا ہے اور وہی خدا کا پیارا۔پس پہلے یہ تحقیق کر لو کہ مرزا صاحب کا دعوی سچا تھا یا نہیں۔اگر وہ سچا ثابت ہو جائے تو پھر خدا کے حکم کے ماتحت ہر ایک قسم کی قربانی ضروری ہے۔اور کیا خدا تعالیٰ کو اسلام کے لئے فکر نہ تھی کہ اس نے ایک نیا فرقہ بنایا؟ خدا نے ایک نیا فرقہ بنایا اور اسے دوسروں سے الگ کیا اور وہی اس کو بڑھائے گا جیسا کہ اس کا وعدہ ہے۔اس مضمون کو آپ وسیع کر سکتے ہیں، سجا سکتے ہیں۔اس کو اگر عمدگی سے ادا کیا جائے تو کسی کو گنجائش نہیں رہتی نہ اسے برا لگتا ہے۔اور اس طرح ان لوگوں کی مخالفت بھی کم ہو جائے گی جو کہتے ہیں کہ مرزا صاحب اچھے آدمی تھے ان کے ماننے کی کیا ضرورت ہے۔اگر کوئی صاحب غیر مبائعین میں سے خود گھر پر آئیں تو ان سے شریفانہ برتاؤ کریں۔جھگڑا کے متعلق بات چیت کرنا چاہیں تو کہہ دیں کہ یہ بات ہو چکی ہے اگر چاہیں تو ایک جگہ سب جماعت مل کر فیصلہ ہو جائے اور نہیں تو آپ قادیان جا کر فیصلہ کریں۔اور اگر کوئی صاحب اس خیال کے پھیلانے کی کوشش کریں کہ سب کو مل کر کام کرنا چاہئے