زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 4

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 4 جلد اول کے لئے دکھ اٹھا ئیں تا یہ ہمارے قصوروں کا کفارہ بنے۔مگر میرا اس سے یہ مطلب نہیں کہ انسان خواه خواہ لوگوں کو بھڑکائے۔جو اپنے جمق کی وجہ سے لوگوں کو بھڑکا دیتا ہے وہ اس نقصان کا جو دین کو اس کے وجود سے پہنچتا ہے ذمہ دار ہے۔اگر کوئی آتا ہے تو آنے دو۔قرآن پر زیادہ غور اور تدبر سے کام لو۔اگر دس ہزار مخالف بھی آپ کے مقابلہ پر ہو گا اور دنیا کے کل فلسفوں اور سائنسوں کا واقف اور فصاحت میں بے نظیر ہو گا تو آپ کا مقابلہ نہ کر سکے گا کیونکہ اگر ہمارا کام بناوٹ یا ہماری اپنی طاقت پر ہوتا تو آج مجھے آپ کو خط لکھنے کا موقع نہ ملتا۔بلکہ ہمارے جسم خاک کے نیچے مدفون ہوتے اور ہمارا کام ناکامی کی مجسم تصویر ہوتا۔آپ کو ابھی جلدی آنے کی ضرورت نہیں میں خود لکھوں گا۔میری طبیعت نسبتاً اچھی ہے۔الحَمدُ لِلهِ۔مگر اچھی بری کا کوئی خیال نہیں دل چاہتا ہے کہ زندگی میں کوئی کلمہ حکمت لوگوں تک میری معرفت بھی پہنچ جائے اس سے زیادہ کوئی خواہش نہیں۔والسلام خاکسار مرزا محمود احمد الفضل 23 فروری 1915ء)