زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 54

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 54 جلد اول ہتھیار اعلیٰ درجہ کے ہوں لیکن ہاتھوں میں طاقت نہ ہو تو بھی بہتر نتیجہ نہیں رونما ہو سکتا۔مثلاً اگر ایک کمزور شخص ہو وہ اعلیٰ درجہ کی تلوار لے کر دشمن کے مقابلہ میں کھڑا ہو جائے تو ما رہی کھائے گا۔یا طاقتور انسان ہو مگر خراب اور ناقص بندوق لے کر کھڑا ہو جائے تو بھی شکست ہی کھائے گا۔پس مفید اور اچھا نتیجہ اس صورت میں نکل سکتا ہے کہ یہ دونوں باتیں حاصل ہوں۔ہاتھوں میں طاقت اور قوت بھی ہو اور کام کی مشق ہو اور ہتھیار بھی اعلیٰ درجہ کے ہوں۔متوقع نتائج کیوں نہیں نکل رہے؟ اب میں دیکھنا چاہئے کہ جس نتیجہ کے نکلنے کی ہمیں امید ہو سکتی ہے وہ اگر نہیں نکلتا تو ان دونوں چیزوں میں سے کون سی چیز ہے جس میں کمی ہے۔آیا ہمارے پاس ہتھیا را ایسے ناقص ہیں کہ ان سے کام نہیں لیا جا سکتا ؟ یا ہتھیار تو اعلیٰ درجہ کے ہیں مگر ہم ایسے نہیں ہیں کہ ان سے کام لے سکیں ؟ یا دونوں باتیں نہیں ہیں ؟ ہتھیار بھی اعلیٰ درجہ کے نہیں ہیں اور ہم بھی اس قابل نہیں کہ کام کر سکیں۔جب ہم غور کرتے ہیں تو اس امر میں تو کوئی شبہ نہیں رہتا کہ ہتھیار تو ہمارے پاس اعلیٰ درجہ کے ہیں کیونکہ دشمن بھی اقرار کرتے ہیں کہ جو دلائل ہمارے پاس ہیں وہ بہت مضبوط اور زبردست ہیں۔خصوصاً حضرت مسیح موعود کے ذریعہ جو دلائل اور براہین ہمیں پہنچے ہیں ان کی قوت اور طاقت کا اعتراف دشمن بھی کرتے ہیں۔اس بات کی موجودگی کی میں اور پھر اس بات کے ہوتے ہوئے کہ ہم شواہد اور دلائل کے ساتھ مانتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود خدا تعالیٰ کی طرف سے تھے پھر اعلیٰ درجہ کے نتائج کا نہ نکلنا بتاتا ہے کہ ہم میں ہی نقص ہے ورنہ اگر ہم ان ہتھیاروں کو عمدگی کے ساتھ چلانے والے ہوں تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ اعلیٰ درجہ کے نتائج نہ پیدا ہوں۔پس یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ہتھیار چلانے والے اچھے نہیں ہیں اور انہیں ہتھیار چلانے کا فن نہیں آتا۔چونکہ نیا سال شروع ہو رہا ہے اس لئے میں نے ضروری سمجھا ہے کہ دوستوں کو جمع کر کے میں اس مضمون پر کچھ بیان