زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 53
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 53 جلد اول مبلغین کو ہدایات 26 جنوری 1921 ء بعد نماز عصر بورڈنگ مدرسہ احمدیہ کے ایک کمرہ میں حضرت کی خلیفہ المسیح الثانی نے مبلغین جماعت احمدیہ ، مبلغین کی کلاس کے طلباء، مدرسہ احمدیہ کی ساتویں جماعت کے طلباء اور افسران صیغہ جات کے سامنے حسب ذیل تقریر فرمائی۔تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔تبلیغ کے طریقوں پر غور کرنا ہم چونکہ ایک ایسے مذہب سے تعلق رکھتے ہیں جس نے اور ذمہ داریوں کے علاوہ اس ذمہ داری کا اٹھانا بھی ضروری قرار دیا ہوا ہے کہ ساری دنیا کو ہدایت پہنچائی جائے اور ہر مذہب ، ہر ملت، ہر فرقہ اور ہر جماعت کے لوگوں کو ہدایت کی جائے اس لئے ہمارے لئے تبلیغ کی ضروریات پر غور کرنا اور اس کے لئے سامان بہم پہنچانا نہایت ضروری معاملہ ہے۔اور خصوصیت کے ساتھ اس معاملہ پر غور کرنا نہایت ضروری ہے کہ تبلیغ کن ذرائع سے کرنا زیادہ مفید اور نتیجہ خیز ہو سکتا ہے اور کن طریقوں کو کام میں لانے سے اعلیٰ نتائج نکل سکتے ہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ میں سال سے زیادہ عرصہ ہمارے سلسلہ کو تبلیغ شروع کئے ہوئے ہوا ہے مگر اس وقت تک وہ نتائج پیدا نہیں ہوئے جن کے پیدا ہونے کی امید اُن صداقتوں کی وجہ سے کی جاسکتی ہے جو ہمارے پاس ہیں۔مفید اور اعلیٰ نتائج دو ہی طرح پیدا ہوا کرتے ہیں۔یا تو طاقتور ہاتھ ہوں، مضبوط بازو ہوں یا اعلیٰ درجہ کے اور مضبوط ہتھیار ہوں ، اور اعلیٰ درجہ کا نتیجہ اسی طرح نکل سکتا ہے کہ یہ دونوں چیزیں حاصل ہوں ورنہ اگر طاقتور ہاتھ ہوں لیکن ہتھیار ناکارہ اور کمزور ہوں تو بھی اچھا نتیجہ نہیں نکل سکتا۔اور اگر