زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 55 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 55

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 55 کروں کہ کس طرح تبلیغ کے عمدہ نتائج نکل سکتے ہیں۔جلد اول مخاطبین اس مجلس میں میں نے ایک تو ان لوگوں کو بلایا ہے جو تلخ کا کام کرتے ہیں اور دوسرے ان کو بلایا ہے جو آئندہ مبلغ ہونے والے ہیں تا کہ ابھی سے ان کے کانوں میں یہ باتیں پڑیں اور ان کے دلوں پر نقش ہوں۔رسول کریم ﷺ نے بچہ کے پیدا ہوتے ہی اس کے کان میں اذان کہنے کا ارشاد فرمایا ہے۔تاکہ پہلے دن ہی اس کے کان میں خدا کا نام پڑے۔تو میں نے اس لئے کہ جو مبلغ ہونے والے ہیں ان کے دلوں میں ابھی سے یہ باتیں بیٹھ جائیں ان کو بھی بلایا ہے یہ بھی اس وقت میرے مخاطب ہیں۔پھر میرے مخاطب منتظمین ہیں جنہوں نے مبلغین سے کام لینا ہے۔کیونکہ جب تک انہیں ان باتوں کا علم نہ ہو وہ کام نہیں لے سکتے۔تو اس وقت میرے مخاطب تین گروہ ہیں۔اول وہ جو کام کر رہے ہیں۔دوسرے وہ جو اس وقت تو کام نہیں کر رہے لیکن دو تین سال کے بعد کام کرنے والے ہیں اور تیسرے وہ جنہوں نے کام لیتا ہے۔مخاطبین کی پہلی قسم پھر اس وقت میرے سامنے تین قسم کے لوگ ہیں۔ایک تو وہ جن کا حلقہ نظر بہت ہی محدود ہے جیسے طالب علم جو آئندہ کام کرنے والے ہیں ان کا حلقہ نظر بہت ہی محدود ہے۔اور ان کی مثال ایسی ہے جیسی کہ کنویں کے مینڈک کی ایک مثال بیان کی جاتی ہے کہ کوئی کنویں کا مینڈک تھا وہ سمندر کے مینڈک سے ملا اور پوچھا بتاؤ سمندر کتنا بڑا ہے؟ سمندر کے مینڈک نے کہا بہت بڑا ہوتا ہے۔اس نے کہا کیا کنویں جتنا؟ کہا نہیں بہت بڑا ہوتا ہے۔اس پر کنویں کے مینڈک نے ایک چھلانگ لگائی اور کہا کیا اتنا بڑا ہوتا ہے؟ اس نے کہا نہیں یہ کیا ہے وہ بہت بڑا ہوتا ہے۔اس پر کنویں کے مینڈک نے دو تین اکٹھی چھلانگیں لگا کر پوچھا اتنا بڑا ؟ اس نے کہا یہ کیا بیہودہ اندازہ لگاتے ہو سمندر تو بہت بڑا ہوتا ہے۔کنویں کے مینڈک نے کہا تم بہت جھوٹے ہو اس سے بڑا کیا ہو سکتا ہے۔میں تم جیسے جھوٹے کے ساتھ بات نہیں کرنا چاہتا۔تو طالب علموں کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے۔ان کو اگر ایک بات بھی مل جاتی ہے اور استاد سے کوئی ایک دلیل