زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 44

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 44 جلد اول مجھے رویا میں بتایا گیا ہے کہ قوم کی زندگی کی علامتوں میں سے ایک علامت شعر گوئی بھی ہے۔اور میں اپنی جماعت کے لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم شعر کہا کرو۔یہی وجہ ہے کہ سالانہ جلسہ پر نظمیں پڑھنے کے لئے بھی وقت رکھا جاتا ہے تو میں نظم کو پسند کرتا ہوں - شعر کہتا رہا ہوں اور رویا میں مجھے بتایا گیا ہے کہ اپنی جماعت کے لوگوں کو شعر کہنے کی تحریک کروں۔مگر ان ہی باتوں کی وجہ سے مجھے یہ بات سخت نا پسند ہے کہ اشعار ایسے طریق سے پڑھے جائیں کہ زبان خراب ہو۔ہمیں اس بات کے لئے بڑی غیرت رکھنا چاہئے کہ ہماری ملکی زبان خراب نہ ہو۔اب تو یہ بات کم ہوتی جاتی ہے لیکن کچھ عرصہ پہلے یہ حالت تھی کہ نو تعلیم یافتہ لوگ اردو بولتے ہوئے بہت کثرت سے انگریزی الفاظ بولتے تھے مثلاً کہتے ہمارے فادر ان لا (Father in Law) آئے ہیں یا یہ کہ ہماری مد رال (Mother ill) پڑی ہیں۔یہ ایک بُری بات تھی جو عام طور پر پھیلی ہوئی تھی اور اس کی وجہ یہ ہوئی کہ چونکہ لوگوں کو اپنی زبان سے محبت نہیں رہی اس لئے وہ اسے نہیں بولتے اور دوسری زبان کے الفاظ عام طور پر بولتے ہیں۔گو یہ مرض اب کم ہوتا جاتا ہے مگر ابھی ہے۔اسی لئے اردو میں اعلیٰ مضامین لکھنے والے بہت کم ہوتے جاتے ہیں۔علاوہ ازیں عام لوگ کیوں سیدھے راستہ سے بھٹک رہے ہیں اور وہ جو ان کے لیڈر کہلاتے ہیں ان کی باتوں کا ان پر کیوں کوئی اثر نہیں ہوتا ؟ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان میں ایسے لوگ نہیں ہیں جو زبان کے ذریعہ ان پر قابو پاسکیں اور انہیں اپنے قبضہ اور اقتدار میں رکھ سکیں۔اور یہ بات اُس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتی جب تک اپنی زبان سے خاص محبت اور الفت نہ پیدا ہو اور اس کو محنت اور کوشش سے نہ سیکھا جائے۔اب تو جو شخص ہندوستان میں پیدا ہوتا ہے وہ کہتا ہے میں اردو جانتا ہوں یہ تو ہماری مادری زبان ہے حالانکہ کوئی زبان صحیح طور پر بغیر سیکھے نہیں آسکتی۔وو ولایت میں ایک مشہور ناول نویس ہے اور ناول نویسی کی وجہ سے ہی اسے "سر" کا خطاب ملا ہے۔وہ لکھتا ہے ایک کتاب کو میں نے اتنا پڑھا اتنا پڑھا کہ باوجود اس کے کہ 6