زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 43
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 43 جلد اول ہے تو اسی کے پڑھنے سے شرم نہ کرو۔اور اگر سورۃ کوثر یاد ہے تو وہی پڑھ کے سنا دو۔کیونکہ قرآن کریم کا کوئی حصہ چھوٹا نہیں بلکہ ہر ایک ہی حصہ بڑا اور متبرک ہے۔دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم کا جتنا حصہ سناؤ وہ ایسا صحت کے ساتھ یاد ہونا چاہئے کہ مجالس میں سنا سکو۔عموماً دیکھا گیا ہے کہ ہمارے بچے عربی الفاظ کو صحت کے ساتھ ادا نہیں کر سکتے۔میں یہ نہیں کہتا کہ عربوں کی طرح اور انہیں کے لہجے میں الفاظ ادا کئے جاویں۔بعض حروف تو ایسے ہیں کہ ان کو اس ملک کے علماء بھی عربوں کی طرح ادا نہیں کر سکتے چنانچہ عرب کی تعریف ہی یہ کی جاتی ہے کہ ض“ بول سکے۔پس جو رض، صحیح طور پر بول سکے وہ عرب ہوتا ہے۔تو تمہارا اس طرح حروف کو ادا کرنا مشکل ہے مگر پھر بھی تمہیں کوشش کرنا چاہئے کہ صحیح تلفظ ادا کر سکو اور عربی لہجہ سے مشابہت پیدا کر لو۔ہمارے شیخ عبد الرحمن صاحب ”ق“ کوک‘ بولتے ہیں مگر وہ معذور ہیں۔کیونکہ بڑی عمر میں ہندو سے مسلمان ہوئے ہیں مگر پھر بھی بہت لوگوں سے اچھا پڑھتے ہیں۔افسوس ہے کہ جو لوگ دوسرے مذاہب سے آئیں وہ تو عربی الفاظ کا ادا کرنا سیکھ لیں مگر وہ بچے جو مسلمانوں کے گھر پیدا ہوں اور تعلیم الاسلام سکول میں پڑھیں وہ نہ پڑھ سکیں۔پس میں ذمہ دار لوگوں کو ہدایت کرتا ہوں کہ طلباء کو صیح الفاظ پڑھنے سکھائیں اور طلباء صحیح پڑھنے کی کوشش کریں۔نظم خوانی کے متعلق نصیحت اس کے بعد نظم کے متعلق میں نصیحت کرنا چاہتا ہوں۔نظمیں عام طور پر پڑھی جاتی ہیں میں بھی نظم کو بہت پسند کرتا ہوں اور خود شاعر ہوں۔مگر اب نہ صرف کوئی شعر کہتا ہی نہیں بلکہ کہہ ہی نہیں سکتا۔پہلے تو یہ حالت تھی کہ ایک دفعہ عصر سے لے کر مغرب تک 100 شعر کہہ لئے تھے۔لیکن اب اگر کبھی ایک مصرعہ منہ سے نکل جاتا ہے تو دوسرا بنا مشکل ہو جاتا ہے۔جس سے میں نے سمجھ لیا ہے کہ اس طرف سے میری طبیعت ہٹ گئی ہے لیکن اس سے پسندیدگی کے مادہ میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔تو میں خود شاعر ہوں یا شاعر تھا شعروں کو پسند کرتا ہوں اور