زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 417
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 417 جلد اول میں مشن فضول ہیں کوئی کام نہیں کر رہے۔میں کہتا ہوں جن لوگوں سے ایسی باتیں کرتے ہیں کیا بیرونی مشنوں کا جاری رکھنا یا بند کرنا ان کے ہاتھ میں ہے؟ اگر نہیں تو ایسی باتوں سے سوائے بے چینی اور بد دلی پیدا کرنے کے اور کیا نتیجہ نکل سکتا ہے۔میں انہیں بتاتا ہوں نہ سیاسی لحاظ سے ترقی ہو سکتی ہے اور نہ دینی لحاظ سے کبھی کامیابی حاصل ہو سکتی۔جب تک غیر ممالک میں تبلیغ نہ ہو۔ہندوستانی اسی لئے مٹے اور ہمیشہ دوسروں کے ماتحت رہے کہ وہ اپنے ملک سے باہر نہ نکلے۔اور چھوٹی چھوٹی قو میں ان پر حاکم بنیں کیونکہ وہ اپنے ممالک سے باہر نکلیں۔پس جو قوم تبلیغی اور سیاسی لحاظ سے کامیاب ہونا چاہتی ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ باہر جائے اور دوسرے ممالک میں اپنی چھاؤنیاں بنائے۔مگر وہ کہ جنہیں نہ سیاسیات پر عبور ہے نہ مذہب پر ، نہ روحانیت میں پر عبور ہے نہ مذہب پر ، نہ روحانیت میں مکمل ہیں نہ علم میں ، وہ کہتے ہیں بیرونی ممالک کی بجائے سارا زور ہندوستان میں لگانا چاہئے۔میں کہتا ہوں ذرا غور تو کرو اگر یہاں موجودہ حالات بالکل بدل جائیں جو روز بروز سرعت سے بدل رہے ہیں تو ہمارے ہاتھ میں کیا رہ جاتا ہے۔لیکن اگر بیرونی ممالک میں چھوٹی چھوٹی جماعتیں بھی قائم ہو جا ئیں تو خواہ ہندوستان میں سارے کے سارے احمدیوں کو مار دیا جائے تو بھی احمدیت کا جھنڈا نہیں گر سکتا۔غرض کسی ایک ملک یا ایک نسل تک تبلیغ محدود رکھنے سے کام نہیں ہوسکتا۔پھر جو تعلیم ساری دنیا کے لئے ہے اس میں ایسے مواد ہوتے ہیں جو ساری اقوام کے دماغوں سے تعلق رکھتے ہیں۔اس میں مختلف قوموں کے احساسات، ان کے جذبات، ان کی قابلیتوں کی مطابقت پیدا کی گئی ہے اور اس کے دوسرے لفظوں میں یہ معنی ہیں کہ جب تک ساری تو میں نہ ملیں گی اُس وقت تک اس تعلیم کی تکمیل نہ ہوگی۔انگریزی دماغ ایک خاص طرز پر چلتا ہے۔فرانسیسی دماغ ایک خاص رنگ رکھتا ہے یہی حال دوسری اقوام کا ہے۔اور جس طرح افراد جدا گانہ حیثیت رکھتے ہیں اسی طرح اقوام بھی جدا گانہ حیثیت رکھتی ہیں۔فرانسیسی لوگ بعض باتوں میں ساری دنیا کے لوگوں سے مطابقت رکھیں گے لیکن بعض میں