زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 416
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 416 جلد اول ضرورت تھی کہ جان بوجھ کر دین کے کام میں خرابی پیدا کرتا۔اس نے جو کچھ کیا دین کی خاطر کیا۔اگر اس سے غلطی بھی ہوئی تو بھی اس کے کام پر اگر کوئی اعتراض کرتا ہے تو وہ صلى الله بے دینی کا مرتکب ہوتا ہے۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ کی ایک مثال ہمارے سامنے ہے۔جب جنگ احد کے وقت مشورہ لیا گیا تو رسول کریم ﷺ کی یہی رائے تھی کہ مدینہ سے با ہر نکل کر نہیں لڑنا چاہئے۔منافقین نے بھی یہی کہا کہ با ہر نہیں جانا چاہئے۔مگر مخلص صحابہ کی رائے تھی کہ باہر جانا چاہئے۔رسول کریم ﷺ نے ان کی رائے مان لی اور باہر چلے گئے 3 جس سے نقصان ہوا اور اس سے ظاہر ہو گیا کہ منافقین کی رائے صحیح تھی مگر رسول کریم ﷺ نے اس موقع پر جو کچھ کیا اس پر جنہوں نے اعتراض کیا انہیں منافق قرار دیا گیا اور مجرم ٹھہرایا گیا۔در اصل اسلام میں اس بات کا توازن رکھا گیا ہے کہ کسی چیز سے زیادہ نقصان ہوتا ہے یا زیادہ نفع۔اگر نفع زیادہ ہو تو خواہ اس میں غلطی ہو تو بھی اس کے متعلق اعتراض کرنے کی اجازت نہیں دی۔مثلاً شریعت نے رکھا ہے کہ رسول کریم ﷺ بھی قضا میں غلطی کر سکتے ہیں 4 لیکن اس پر اعتراض کرنا گناہ قرار دیا ہے 5 وجہ یہ کہ قضا کی غلطی کا اثر ایک محدود دائرہ کے اندر پڑتا ہے لیکن فیصلہ کرنے والے پر اعتراض کرنے سے ساری قوم کے اخلاق تباہ ہو جاتے ہیں۔غرض میں نے مبلغوں کو ہمیشہ یہ نصیحت کی ہے اور جب تک اس پر عمل نہ کریں گے کامیابی حاصل نہیں کر سکیں گے کہ ہر مبلغ کا پہلا فرض یہ ہے کہ اپنے پیشرو کی پالیسی اور طریق عمل پر چلے۔اس میں اگر غلطی معلوم ہو تو یہ نہ کہے کہ پہلے نے کام خراب کر دیا بلکہ یہ کہے کہ پہلے اس طرح کام ہوتا تھا اب یہ کام اس طرح کیا جائے تو زیادہ مفید ہو سکتا ہے۔اس طرح کہنے سے کسی کی شکایت بھی نہ ہوگی اور جس طرح اس کے نزدیک کام عمدگی سے ہو سکے گا اس طرح وہ کر بھی سکے گا۔پھر یہ بات میرے سامنے ہی نہ کہے بلکہ سب کے سامنے یہی کہے۔بعض مبلغ ایسے ہیں جو لوگوں میں کہتے پھرتے ہیں کہ بیرونی ممالک