زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 414
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 414 جلد اول نہیں کہ صفحے کے صفحے لکھے جائیں بلکہ تفصیل ایک فقرہ میں بھی ہو سکتی ہے۔تو کام کرنے والوں میں بشاشت قائم رہ سکتی اور وہ عمدگی سے کام کر سکتے ہیں۔جہاں تک میں نے غور کیا ہے سوائے ایک واقعہ کے جس کے متعلق ابھی دریافت کرنا ہے حکیم صاحب کو میں نے اس بارے میں نہایت عمدہ اور صحیح طریق پر پایا۔وہ دوسروں سے تعاون بھی کرتے رہے۔صحیح رپورٹیں بھی بھیجتے رہے۔مشورے بھی طلب کرتے رہے اور مشوروں پر عمل بھی کرتے رہے۔انہوں نے محسوس کیا کہ وہ ایک لڑی میں پروئے ہوئے ہیں اور اس کے مطابق انہیں کام کرنا ہے۔انہوں نے کبھی میرے پاس اپنے پیشرو کی شکایت نہیں کی اور ایسے طور پر کام نہیں کیا کہ افسروں سے تعاون میں کمی کی ہو۔میں نے عام مبلغوں کو دوسروں کا شکوہ کرتے دیکھا۔بعد میں جو مبلغ کسی کی جگہ کام کرنے کے لئے جاتا ہے وہ پہلوں پر نکتہ چینی شروع کر دیتا ہے کہ فلاں نے یہ غلطی کی فلاں نے یہ غلطی کی۔90 فیصدی ایسے مبلغ ہیں جن کی طرف سے پہلوں پر اعتراض میرے پاس پہنچے۔ایسی صورت میں میں تو یہی کہوں گا کہ ان میں تعاون کی قابلیت نہیں۔بے شک ایک دوسرے سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن اختلاف رائے کے معنی غلطی نہیں ہوتے۔میں سمجھتا ہوں اور تو اور اگر رسول کریم ﷺ کا زمانہ ہوتا اور کسی بات میں مشورہ طلب کیا جاتا تو بیسیوں دفعہ اختلاف ہوتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ ہم نے دیکھا ہے آپ کوئی مشورہ دیتے تو بسا اوقات اس سے بعض کو اختلاف ہوتا۔مگر اس کے یہ معنی نہیں تھے کہ آپ غلطی کرتے تھے۔مگر بسا اوقات ہم نے دیکھا کہ آپ اپنی رائے چھوڑ دیتے اور دوسروں کی قبول کر لیتے۔مجھے خوب یاد ہے کہ ایک مسئلہ کے متعلق آپ نے فرمایا مجھے قرآن سے یہی معلوم ہوتا ہے۔اس پر مولوی محمد احسن صاحب نے تو کہا ہاں حضور ! یہی درست ہے اور یہی قرآن سے ثابت ہے۔لیکن حضرت خلیفہ اول نے فرمایا پہلے فقہاء نے ایسا نہیں لکھا۔اس پر آپ نے فرمایا اچھا میں لوگوں کو ابتلا میں نہیں ڈالنا چاہتا جس طرح پہلے فقہاء نے لکھا ہے اسی طرح سمجھا جائے۔گو اب بھی مجھے خیال آتا ہے اگر تحقیقات