زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 413 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 413

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 413 جلد اول ظاہر کرے۔لیکن جو عام پالیسی کے خلاف ہوں اور جن سے خطرہ ہو کہ نقصان ہو گا ان کا انکار کر دے۔پھر ماتحت کا فرض ہو کہ وہ سمجھے کہ جو اس کی اچھی باتیں تھیں وہ قبول کر لی گئی ہیں اور وہ بھی قبول کر لی گئی ہیں جو گو اچھی نہ تھیں لیکن ان سے کسی نقصان کا احتمال نہ تھا۔تو وہ باتیں جن میں افسر کے نزدیک نقصان کا احتمال تھا انہیں میں بھی چھوڑ دوں اور بشاشت قلب سے کام کروں۔میں سمجھتا ہوں کاموں کے لحاظ سے ایک بات ایسی ہے جس کی طرف ابھی تک نظارتوں کی توجہ نہیں اور اس وجہ سے نقصان ہو رہا ہے۔وہ سکیموں میں اختصار کی پالیسی ہے۔جب کوئی سکیم پیش ہوتی ہے تو نظارت اس میں بعض ترمیمیں کر کے اپنی طرف سے پیش کر دیتی ہے اور ایک نئی سکیم بنا کر ماتحت کو دے دی جاتی ہے۔اس پر وہ خیال کرتا ہے بنا پر کرتا یہ نظارت کی سکیم ہے۔اسے یہ خیال نہیں آتا کہ اس نے جو سکیم پیش کی تھی وہ ہے۔اس کی بجائے جیسا کہ گورنمنٹ کا طریق ہے یہ ہونا چاہئے کہ جو تجاویز ما تحت محکمہ کی طرف سے پیش ہوں ان میں سے جو درست اور مفید ہوں ان پر عمل کیا جائے اور جن میں تبدیلی کی ضرورت ہو ان میں تبدیلی کر کے بتایا جائے کہ فلاں بناء پر اس تبدیلی کی ضرورت ہے۔اور جو نا قابل قبول ہوں ان کے متعلق لکھا جائے کہ ان وجوہات کی بناء پر انہیں رد کیا جاتا ہے۔اگر اس طرح ہو تو جو کارکن دیانت دار ہو گا اور ہم سمجھتے ہیں خدا کے فضل سے ہمارے سارے کارکن دیانت دار ہیں کیونکہ انہوں نے خدمت دین کے لئے زندگیاں وقف کی ہوئی ہیں اسے تسلی ہوگی کہ اس کی بات مانی گئی اور وہ عمدگی سے کام کر سکے گا۔اور اگر اسے اختلاف بھی ہوگا تو اس کی بشاشت دور نہ ہوگی۔اور اگر ایسا ہو تو ریکارڈ موجود ہو گا۔اگر وہ کہے گا کہ مجھ سے تعاون نہ کیا گیا تو اسے بتاسکیں گے کہ دیکھو تم نے مثلاً 15 باتیں پیش کی تھیں ان میں سے 10 افسر نے مان لیں اور پانچ نا منظور کر دیں۔اگر افسر ہو کر وہ تمہاری دس باتیں مان سکتا ہے تو تمہیں ماتحت ہو کر پانچ میں افسر کی رائے ماننے میں کیا عذر ہو سکتا ہے۔پس اگر ایسی سکیموں کے متعلق تفصیل سے لکھا جائے اس سے میری مراد یہی